اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 29 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 29

29 رکھی گئی۔اس کے قواعد اساسی و غیر ہ صدر انجمن احمدیہ کے قواعد اساسی وغیرہ کے مطابق تجویز کئے گئے اور یہ سب میں نے تجویز کئے۔ان دنوں مولوی محمد علی صاحب بھی قادیان سے رخصت لے کر آئے تھے ہمارے رخصت پر آجانے کے بعد صدرانجمن نے ایک قاعدہ بنایا کہ رخصت کی تنخواہ کے حقدار صرف وہ ملازم ہونگے جو رخصت سے واپس اپنی ملازمت پر آجائیں۔چنانچہ میں چار ماہ کی رخصت گذار کر واپس قادیان آگیا یکم ستمبر ۱۹۱۴ء کو میں رخصت سے واپس گیا تھا۔رخصت سے واپس جانے پر مجھے چار ماہ کی تنخواہ ہل گئی۔لیکن رخصت کے ایام میں میں لاہور سے بھی تنخواہ لیتا رہا تھا۔اس لئے میرے ضمیر نے مجھے اجازت نہ دی کہ میں دو جگہ سے تنخواہ لیتا رہوں۔اس لئے قادیان سے وصول کردہ تنخواہ ساری میں نے بطور چندہ صدرانجمن احمد یہ قادیان کو دے دی۔میں جب رخصت پر گیا تھا تو مینجر میگزین تھا اور جب واپس آیا تو چونکہ میرا تعلق احمد یہ انجمن اشاعت اسلام لاہور سے ہو گیا تھا۔صدرانجمن نے مجھے مینجر میگزین رکھنا مناسب نہ سمجھا۔اور مجھے پیشل ڈیوٹی پر لگا دیا۔اس پر میں نے صدرانجمن کولکھا کہ یا تو مجھے میرے پہلے عہدہ پر ہی لگایا جائے ورنہ میراستعفیٰ منظور کیا جائے۔چنانچہ صدرانجمن نے 9 ستمبر ۱۹۱۴ء کو میرا استعفیٰ منظور کر لیا۔اور میں لا ہور آ گیا۔مسلم ٹاؤن کی آبادی:۔مسلم ٹاؤن لاہور کی جتنی زمین ہے یہ ڈاکٹر سید محمدحسین شاہ صاحب نے خریدی تھی۔اور ان کی نیت تھی کہ یہاں صرف احمدی آباد ہوں اس لئے انہوں نے پہلے اس کا نام احمد یہ بستی رکھا اور کوشش کی کہ احمدی یہ زمین خریدیں اور یہاں آباد ہوں مگر احمدیوں نے بہت کم زمین خریدی کیونکہ کسی کو یقین نہ تھا کہ یہ بستی کبھی آباد بقیہ حاشیہ:۔بیعت خلافت کر لی ہے اللہ تعالیٰ باقیوں کو بھی توفیق عطا کرے آمین۔الفضل بابت ۱۳/۹/۶۰ میں وفات بھمر قریباً پچھتر سال ہونے ۱۹۰۱ء میں بیعت کرنے اور صحابیہ ہونے کا ذکر ہے۔اور یہ کہ مرحومہ بہت نیک طبع نیک سیرت ار مقیم تھیں حتی الوسع کسی سوالی کوخالی نہ جانے دیتیں۔اعزہ اقارب ہمسائیوں اور نوکروں سے حسن سلوک کرتیں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ پوری وابستگی رہی حضور اور افراد خاندان حضرت اقدس سے محبت وعقیدت تھی۔تاریخ احمدیہ ( سرحد ) مولفہ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب کا یہ تحریر فرمانا کہ کہ ماسٹر صاحب نے ” خلافت ثانیہ کے قیام پر تجدید بیعت کی تھی (صفحہ ۷۶) ماسٹر صاحب کے بیان کی روسے سہو معلوم ہوتا ہے۔