اصحاب احمد (جلد 10) — Page 470
470 پر کھڑا ہے۔اور اس کی روشنی اور آواز جلد تر دنیا میں پھیلے گی۔اور یہ باتیں کسی اور نبی کو میسر نہیں آئیں۔احادیث نبویہ میں جو یہ آیا ہے کہ آنے والا سیج صاحب المنارہ ہوگا اس کے اندر یہ حقیقت مخفی ہے کہ اس کے زمانہ میں اسلامی سچائی بلندی کے انتہاء تک پہنچے گی۔جو اس منارہ کی مانند ہے جو نہایت اونچا ہو اور دین اسلام آیت هُوَ الَّذِى أَرسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلَّه کے مطابق تمام ادیان پر غالب آ جائے گا۔جیسے مینار سے اذ ان تمام آوازوں پر غالب آجاتی ہے یہی اشارہ میرے اس الہام میں ہے کہ بخرام که وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتادی دمشق کا ذکر اس لئے ہے کہ تثلیث کی تخم ریزی دمشق ہی سے شروع ہوئی تھی۔اور مسیح موعود کے دمشق کے قریب نزول میں یہ اشارہ ہے کہ اس کی غرض یہ ہے کہ تا تثلیث کے خیالات کو محو کر کے ایک خدا کا جلال دنیا میں قائم کرے۔ایسی الہی باتوں کی تہہ میں اسرار و رموز ہوتے ہیں۔پولوس یہودی نے ایک خواب کا منصوبہ بنا کر تثلیث کا آغاز کیا اور اس شرک عظیم کا کھیت اول دمشق میں ہی بڑھا اور پھولا اور پھر یہ زہر دیگر مقامات میں پھیلا اللہ تعالیٰ کو تو معلوم تھا کہ ایک انسان کو خدا بنانے کا بنیادی پتھر اول دمشق میں ہی رکھا گیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے ذکر کے وقت کہ جب غیرت خداوندی اس باطل تعلیم کو نابود کرے گی پھر دمشق کا ذکر فرمایا اور پیشگوئی کا مطلب یہ تھا کہ مسیح موعود کا نور آفتاب کی طرح دمشق کی طرح دمشق کے مشرقی جانب سے طلوع کر کے مغربی تاریکی کو دور کر دے گا۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسیح موعود آفتاب کی طرح جو مشرق سے طلوع کرتا ہے ظہور فرمائے گا۔اور اس کے مقابل پر تثلیث کا چراغ مردہ جو مغرب کی طرف واقع ہے دن بدن پر مردہ ہو جائے گا کیونکہ الہی کتب میں مشرق کی طرف سے طلوع اقبال کی نشانی اور مغرب کی طرف سے جانا ادبار کی نشانی ہے۔پھر حضرت اقدس نے ایک اور اشتہار کے ذریعہ اس اہم خدمت دین کے بارے توجہ دلاتے ہوئے رقم فرمایا: میں آج خاص طور سے اپنے ان مخلصوں کو اس کام کے لئے توجہ دلاتا ہوں جن کی نسبت مجھے یقین ہے کہ اگر وہ سچے دل سے کوشش کریں۔جیسا کہ اپنے نفس اغراض کے لئے اور اپنے بیٹوں کی شادیوں کے لئے پورے زور سے انتظام سرمایہ کر لیتے ہیں تو ممکن ہے کہ یہ کام ہو جائے۔اگر انسان کو ایمانی دولت سے حصہ ہو تو گو کیسے ہی مالی مشکلات کے شکنجہ میں آجائے تا ہم وہ کار خیر کی تو فیق پالیتا ہے۔چنانچہ حضور نے بطور مثال دو غریب لیکن مخلص احمدیوں کے اسماء درج کئے ہیں۔جنہوں نے اپنی مقدور سے بہت بڑھ کر تعمیر منارہ کے لئے مالی پیشکش کی ہے۔نیز حضور فرماتے ہیں کہ منارہ کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے اسلام میں دو دفعہ کوشش کی گئی۔۴۱ ۷ ہجری سے پہلے کئی لاکھ روپے سے ایک مینار تعمیر ہوا۔نصاری نے اسے تذکرہ صفحہ ے ے طبع ۲۰۰۴ء مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۴۲۲