اصحاب احمد (جلد 10) — Page 467
467 نہ ہو جائے تو عنقریب یہ سب دقتیں دور ہو جائیں گی۔اس وقت ہم پر فرض ہو گیا ہے کہ بیرونی اور اندرونی دونوں قسم کی خرابیوں کی اصلاح کرنے کے لئے بدل و جان کوشش کریں اور اپنی زندگی کو اسی راہ میں فدا کردیں۔اور وہ صدق قدم دکھلا دیں جس سے خدا تعالے جو پوشیدہ بھیدوں کو جانے والا اور سینوں کی چھپی ہوئی باتوں پر مطلع ہے راضی ہو جائے۔اسی بناء پر میں نے قصد کیا ہے کہ اب قلم اٹھا کر پھر اس کو اس وقت تک موقوف نہ رکھا جائے جب تک کہ خدا تعالیٰ اندرونی اور بیرونی مخالفوں پر حجت پوری کر کے حقیقت عیسویہ کے حربہ سے حقیقت دجالیہ کو پاش پاش نہ کرے۔لیکن کوئی قصد بجز تو فیق و فضل و امدا د ورحمت الہی انجام پذیر نہیں ہو سکتا اور خدا تعالیٰ کی بشارات پر نظر کر کے جو بارش کی طرح برس رہی ہیں۔اس عاجز کو بھی امید ہے کہ وہ اپنے اس بندہ کو ضائع نہیں کرے گا۔اور اپنے دین کو اس خطر ناک پراگندگی میں نہیں چھوڑے گا۔جواب اس کے لاحق حال ہے۔مگر بر عایت ظاہری جو طریق مسنون ہے- من انصاری الی اللہ بھی کہنا پڑتا ہے سو بھائیو!۔۔سلسلہ تألیفات کو بلا فصل جاری رکھنے کے لئے میرا پختہ ارادہ ہے۔اور یہ خواہش ہے کہ اس رسالہ کے چھپنے کے بعد جس کا نام نشان آسمانی ہے۔رسالہ دافع الوساوس طبع کرا کر شائع کیا جاوے اور بعد اس کے بلا توقف رسالہ حیات النمئی و ممات امسیح “ جو یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں بھی بھیجا جائے گا شائع ہو۔اور بعد اس کے بلا توقف حصہ پنجم ” براہین احمدیہ جس کا دوسرا نام ”ضرورت قرآن رکھا گیا ہے۔ایک مستقل کتاب کے طور پر چھپنا شروع ہو۔و لیکن میں اس سلسلہ کے قائم رکھنے کے لئے یہ احسن انتظام خیال کرتا ہوں کہ ہر ایک رسالہ جو میری طرف سے شائع ہو، میرے ذی مقدرت دوست اس کی خریداری سے مجھ کو بدل وجان مدد دیں۔اس طرح پر کہ حسب مقدرت اپنے ایک نسخہ یا چند نسخے اس کے خرید لیں۔جن رسائل کی قیمت تین آنہ یا چار آنہ یا اس کے قریب ہوان کو ذی مقدرت احباب اپنے مقدور کے موافق ایک مناسب تعداد تک لے سکتے ہیں اور پھر وہی قیمت دوسرے رسالہ کے طبع میں کام آ سکتی ہے۔اگر میری جماعت میں ایسے احباب ہوں جو ان پر زکوة فرض ہو تو ان کو سمجھنا چاہیئے کہ اس وقت دین اسلام جیسا غریب اور یتیم اور بیکس کوئی بھی نہیں اور زکوۃ نہ دینے میں جس قدر تہدید شرع وارد ہے وہ بھی ظاہر ہے اور عنقریب ہے جو منکر زکوۃ کافر ہو جائے پس فرض عین ہے جو اسی راہ میں اعانت اسلام میں زکوۃ دی جاوے زکوۃ میں کتابیں خریدی جائیں اور مفت تقسیم کی جائیں اور میری تألیفات بجز ان رسائل کے اور بھی ہیں۔آیندہ ہر ایک امر اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہے۔یــفــعــل