اصحاب احمد (جلد 10) — Page 464
464 معرفت کی آپ اور آپ کی ذریت کو نہایت ضرورت ہے سو میں اس لئے مستعد کھڑا ہوں کہ آپ لوگ اپنے اموال طیبہ سے اپنی دینی مہمات کے لئے مدد دیں اور ہر ایک شخص جہاں تک خدائے تعالیٰ نے اس کو وسعت وطاقت ومقدرت دی ہے اس راہ میں دریغ نہ کرے اور اللہ اور رسول سے اپنے اموال کو مقدم نہ سمجھے اور پھر میں جہاں تک میرے امکان میں ہے، تالیفات کے ذریعہ سے ان علوم اور برکات کو ایشیا اور یورپ کے ملکوں میں یہ سچ بات ہے کہ یورپ اور امریکہ نے اسلام پر اعتراضات کرنے کا ایک بڑا ذخیرہ پادریوں بیہ دو تین ہزار سے حاصل کیا ہے۔اور ان کا فلسفہ اور طبعی بھی ایک الگ ذخیرہ نکتہ چینی کا رکھتا ہے۔کے قریب حال کے زمانہ میں باتیں) اسلام کی نسبت بصورت اعتراض سمجھی گئی ہیں۔۔”اس میں کچھ شک نہیں کہ اسلام میں اس قدر صداقت کی روشنی چمک رہی ہے اور اس قدر اس کی سچائی پر نورانی دلائل موجود ہیں کہ اگر وہ اہل تحقیق کے زیر توجہ لائی جاویں تو یقینا وہ ہر ایک سلیم العقل کے دل میں گھر کر جاویں لیکن افسوس کہ ابھی وہ دلائل اندرونی طور پر بھی اپنی قوم میں شائع نہیں چہ جائیکہ مخالفوں کے مختلف فرقوں میں شائع ہوں۔سو انہیں براہین اور دلائل اور حقائق اور معارف کے شائع کرنے کے لئے قوم کی مالی امداد کی حاجت ہے۔کیا قوم میں کوئی ہے جو اس بات کو سنے؟ ” جب سے میں نے رسالہ فتح اسلام کو تالیف کیا ہے ہمیشہ میرا اس طرف خیال لگا رہا کہ میری اس تجویز کے موافق جو میں نے دینی چندہ کے لئے رسالہ مذکور میں لکھی ہے دلوں میں حرکت پیدا ہوگی۔۔۔مگر افسوس کہ بجز چند میرے مخلصوں کے جن کا ذکر میں عنقریب کروں گا کسی نے اس طرف توجہ نہیں کی۔میں حیران ہوں کہ کن الفاظ کو استعمال کروں تا میری قوم پر وہ مؤثر ہوں میں سوچ میں ہوں کہ وہ کونسی تقریر ہے جس سے وہ میرے غم سے بھرے ہوئے دل کی کیفیت سمجھ سکیں۔اے قادر خدا! ان کے دلوں میں آپ الہام کرا اور غفلت اور بدظنی کی رنگ آمیزی سے ان کو باہر نکال اور حق کی روشنی دکھلا۔پیارو! یقیناً سمجھو کہ خدا ہے اور وہ اپنے دین کو فراموش نہیں کرتا بلکہ تاریکی کے زمانہ میں اس کی مدد فرماتا ہے مصلحت عام کے لئے ایک کو خاص کر لیتا ہے اور اس پر علوم لدنیہ کے انوار نازل کرتا ہے۔سواسی نے مجھے جگایا اور سچائی کے لئے میرا دل کھول دیا۔میری روزانہ زندگی کا آرام اسی میں ہے کہ میں اسی کام میں لگا رہوں بلکہ میں اس کے بغیر جی ہی نہیں سکتا۔کہ میں اس کا اور اسکے رسول مگا اور اس کی کلام کا جلال ظاہر کروں میرا فرض بھی ہے کہ جو کچھ مجھے دیا گیا وہ دوسروں کو بھی دوں اور دعوت مولیٰ میں ان سب کو شریک کرلوں جو ازل سے بلائے گئے ہیں۔میں اس مطلب کے پورا کرنے کے لئے قریباً سب کچھ کرنے کے لئے مستعد ہوں۔