اصحاب احمد (جلد 10) — Page 463
463 (۱۱) ایک پمفلٹ کی اشاعت میں مدد (۱۹۱۵ء میں ) (۱۲) ولایت میں احمدیہ مسجد کی تعمیر میں خطیر رقم دینا (۱۹۲۰ء میں ) (۱) یکے از انصار حضرت مسیح موعود و بعض مبائعین کا ذکر اور نیز اس سلسلہ کے معاونین کا تذکرہ اور اسلام کو یورپ و امریکہ میں پھیلانے کی احسن تجویز کے زیر عنوان حضرت مسیح موعود علیہ السلام ازالہ اوہام حصہ دوم میں جو ۱۸۹۱ ء میں شائع ہوئی تحریر فرماتے ہیں: اسلام کے ضعف اور غربت اور تنہائی کے وقت میں خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔سنت اللہ اسی طرح واقع ہے کہ خزائن معارف و دقائق اُس قدر ظاہر کئے جاتے ہیں جس قدر ان کی ضرورت پیش آتی ہے۔سو یہ زمانہ ایک ایسا ہے جو اس نے ہزار ہا عقلی مفاسد کو ترقی دیکر اور بے شمار معقولیشبہات کو بمنقہ ظہور لا کر بالطبع اس بات کا تقاضا کیا ہے کہ ان اوہام و اعتراضات کے رفع دفع کے لئے فرقانی حقائق و معارف کا خزانہ کھولا جائے جس قدر حق کے مقابلپر اوہام باطلہ پیدا ہوئے ہیں اور عقلی اعتراضات کا ایک طوفان برپا ہوا ہے، اس کی نظیر کسی زمانہ میں نہیں پائی جاتی۔لہذا ابتدا سے اس امر کو بھی ( کہ ) ان اعتراضات کا براہین شافیہ وکافیہ بحوالہ آیات قرآن مجید بگلی استیصال کر کے تمام ادیان باطلہ پر فوقیت اسلام ظاہر کر دی جائے اسی زمانہ پر چھوڑا گیا تھا۔کیونکہ پیش از ظهور مفاسد ان مفاسد کی اصلاح کا تذکرہ محض بے محل تھا۔ان حقائق کے اظہار کے وقت کی ) جو آیت هُو الذی اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى میں صاف اور کھلے کھلے طور پر مرقوم ہے۔سواب وہی وقت ہے اور ہر یک شخص روحانی روشنی کا محتاج ہورہا ہے۔سوخدائے تعالیٰ نے اس روشنی کو دیکر ایک شخص کو دنیا میں بھیجا۔وہ کون ہے؟ یہی ہے جو بول رہا ہے۔رسالہ فتح اسلام میں یہ امر مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے کہ ایسے عظیم الشان کاموں کے لئے قوم کے ذی مقدرت لوگوں کی امداد ضروری ہے اور اس سے زیادہ اور کونسی سخت معصیت ہوگی کہ ساری قوم دیکھ رہی ہے کہ اسلام پر چاروں طرف سے حملے ہورہے ہیں اور وہ وبا پھیل رہی ہے۔جو کسی آنکھ نے پہلے اس سے نہیں دیکھی تھی اس نازک وقت میں ایک شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے اٹھا اور چاہتا ہے کہ اسلام کا خوبصورت چہرہ تمام دنیا پر ظاہر کرے اور اس کی راہیں مغربی ملکوں کی طرف کھولے لیکن قوم اس کی امداد سے دستکش ہے اور سو عظن اور دنیا پرستی کی راہ سے بکلی قطع تعلقات کر کے چپ چاپ بیٹھی ہے۔میرے پیارے دوستو ! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے اور ایک سچی معرفت آپ صاحبوں کی زیادت ایمان و عرفان کے لئے مجھے عطا کی گئی ہے۔اس