اصحاب احمد (جلد 10) — Page 452
452 علیہ الصلوۃ والسلام نے تو فرمایا ہے کہ جس پر چالیس مومنوں کا اتفاق ہو وہ ہی امام اور خلیفہ ہو جس کے ہاتھ پر بیعت کی جاوے اور ڈاکٹر صاحب بجائے مومن کے اہل الرائے گا رہے ہیں۔غالباً جس طرح عام طور پر لوگوں کو لیڈر بنے کا شوق ہے، وہ اس زمانہ میں ایک فیشن ہو گیا ہے۔اس فیشن کو یہ اہل الرائے صاحبان اختیار کرنا چاہتے ہیں۔جو بوجہ اپنی امارت اور ڈگریوں کے اپنے آپ کو اس کا مستحق پاتے ہیں ہمارے ان دوستوں کو سمجھ لینا چاہیئے کہ ہمیں خدا تعالے اور اس کے رسول اور خلیفہ اور قرآن شریف کافی ہے ہمیں نہ کسی اہل الرائے کی ضرورت ہے، نہ لیڈر کی، جو دنیاوی وجاہت کے باعث بننا چاہتا ہے۔مولوی محمد علی صاحب نے عجیب ڈھنگ اختیار کیا ہے۔سوال یہ اٹھا تھا کہ خلیفہ یا جانشین ہو یا نہ ہومگر مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ ہم اس کے ہاتھ پر بیعت نہ کریں گے جو عام مسلمانوں کو کافر کہتا ہے۔مولا نا ! کون کہتا ہے کہ آپ اس کے ہاتھ پر بیعت کریں جس کو ہم کہیں؟ ہم نے آپ سے کیا کہا تھا کہ آپ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور پھر حضرت خلیفہ اُسیح (اول) کے ہاتھ پر بیعت کریں ؟ جس دل نے آپ کو ان کے حضور جھکا دیا وہی دل اگر اب انکار کرتا ہے تو آپ کو اختیار ہے اسی طرح آپ کسی کو روک بھی نہیں سکتے۔مولانا !حضرت صاحب علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اقل درجہ چالیس مومن جس پر اتفاق کریں وہ میری طرف سے لوگوں سے بیعت لے۔اس کی حیثیت قوم اور پھر انجمن کے سامنے کیا ہونی چاہیئے ؟ کیا وہ انجمن کا خادم ہوگا یا مخدوم؟ طریق عمل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ قوم اور انجمن کا مخدوم ہو گا۔مولانا جس پر بحث اور تردید آج آپ کرنا چاہتے ہیں۔وہ نیا نہیں بلکہ تین چار سال سے گشت لگا رہا ہے۔پہلے آپ نے کوئی تردید نہیں کی اور نہ حضرت خلیفہ اسیح ( اول ) رضی اللہ عنہ نے مخالفت ظاہر فرمائی بلکہ فرمایا اور لکھوایا کہ مجھے اس مضمون سے مخالفت نہیں اور ہرگز مخالفت نہیں۔آپ کے لئے موقع تھا کہ آپ عرض کرتے یا حضور سے بحث کرتے اور ایسا کرنا اچھا ہوتا، بمقابلہ اس کے کہ آپ نے دل میں مخالفت کی اور حضرت خلیفتہ اسیح مرحوم کی وفات نے ہی آپ کو اس مسئلہ کی یاد دلائی جو پہلے یاد نہ تھا۔قوم نے جس کی تعداد چالیس سے گذر کر ہزاروں تک ہے اور جس میں حضرت مولوی محمد احسن صاحب اور مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب جیسے بزرگ متقی شامل ہیں حضور میاں صاحب کو اپنا امام مان لیا ہے۔اور جناب ممدوح کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے پس اسی طرح اللہ تعالیٰ خلیفہ بنایا کرتا ہے۔اور بڑے چھوٹے ہو جاتے ہیں۔وَاعْتَصِمُو بِحَبْلِ الله جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّ قو ا - فقط “ ☆ الحکم ۲۸ / مارچ ۱۹۱۴ء (صفحه ۵،۴) زیر عنوان ” جناب مولوی محمد علی صاحب کا زہر یلاٹریکٹ اور قوم کا اظہار نفرت اس اشاعت میں دیگر سات احباب کے مکتوبات تین کالم میں اور آپ کا مکتوب اڑہائی کالم میں گویا سب سے مبسوط درج ہے۔اور تعارف بھی صرف آپ کا کروایا گیا ہے۔