اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 449 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 449

449 ثانیہ بھی ظاہر ہے۔(۱) شرائط بیعت۔افتراؤں کی تردید : قیام خلافت کے مخالفین نے خلافت ثانیہ کے خلاف عجیب باتیں گھڑیں۔۲۱ مارچ ۱۹۱۴ ء کو حضرت نواب محمد علی خاں صاحب اور حضرت مولوی شیر علی صاحب کی طرف سے مشترکہ شرائط بیعت“ کے عنوان سے ایک اشتہار شائع ہوا ( جو الحکم کے اس سال کے فائل میں قادیان کی مرکزی لائیبریری میں موجود ہے ) اس میں یہ مرقوم تھا کہ ( جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ خلیفہ حضرت سید نا اولوالعزم فضل عمر مرزا بشیر الدین محمود احمد سلمہ اللہ تعالیٰ واید خلیفتہ المہدی کی خلافت پسند نہیں وہ عوام کو دھوکہ دیگر حضور مدوح سے بدظن کرنے کے لئے طرح طرح کی غلط بیانیوں اور افتراؤں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ممکن نہیں کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مقابلہ کر کے کامیابی کا منہ دیکھیں۔کیا انسان خدا تعالیٰ پر غالب آ سکتا ہے؟ ایک یہ افتراء ( کیا گیا ہے کہ حضور نے بیعت میں یہ شرائط بھی رکھے ہیں کہ فلاں فلاں کو منافق سمجھا جائے یا۔۔کہا جائے۔نیز یہ کہ غیر احمد یوں کو کافر ) کہا جائے)۔دونوں باتیں محض افتراء ہیں اس اعلان کے آخر پر الفاظ بیعت درج کئے گئے ہیں۔اور اس کی پشت پر کئی صد افراد کی طرف سے ایک ”اعلان“ شائع ہوا۔ان افراد کے اسماء متعدد عنوانات مثلاً افراد خاندان حضرت مسیح موعود ارکان صدر انجمن احمدیہ، ایڈیٹر صاحبان ، گریجویٹ صاحبان وغیرہ کے تحت درج ہیں معززین و تجار“ کے عنوان کے تحت مندرجہ ستائیں ناموں میں منشی حبیب الرحمن صاحب رئیس حاجی پورہ کا اسم گرامی مرقوم ہے۔اس اعلان میں ان احباب کو جو بوقت بیعت اولی حاضر نہ تھے بیعت سے مشرف ہونے کی تلقین کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ حضرت خلیفتہ اسیح اول وفات پاگئے ہیں اور ۱۴ / مارچ ۱۹۱۴ء کو بعد نماز عصر مسجد نور میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ قرار پائے ہیں۔اور قریباً دو ہزار افراد نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ نے ایک مختصر تقریر اور دعا کے بعد ( تعلیم الاسلام ) ہائی سکول کے شمالی جانب میدان میں نماز جنازہ پڑھائی اور مزار مبارک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دائیں جانب حضرت مولوی نورالدین صاحب کی تدفین ہوئی۔(۲) مولوی محمد علی صاحب کا ٹریکٹ : مولوی محمد علی صاحب نے جوز ہر بلاٹر یٹ حضرت خلیفہ امسیح اول کی زندگی میں آپ کی وصیت کو پڑھنے اور سنانے کے باوجود مخفی طور پر لکھا اور طبع کرا کے اسے آپ کی وفات