اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 448 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 448

448 منشی صاحب کی بیعت خلافت ثانیہ و تائید حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے خلاف بہت وسیع پراپیگنڈہ دوران ، خلافت اولی کیا گیا تھا۔قلب صافی رکھنے والوں پر اس کا ذرہ بھر اثر نہ ہوا بلکہ یہ امران کے از دیا دایمان کا باعث ہوا۔ایسے باصفا احباب میں منشی حبیب الرحمن صاحب بھی شامل تھے۔آپ حضرت صاحبزادہ صاحب کے روحانی علومرتبت سے متاثر تھے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے وصال کی خبر ہوتے ہی انتخاب خلافت کی خبر کا انتظار کئے بغیر آپ نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں تحریر کیا کہ میرے افراد خاندان سمیت میری بیعت قبول فرمائیں اور اگر کسی اور کی بیعت ہوئی ہو تو اس کے ہاتھ پر ہماری بیعت قبول کی جائے۔منشی صاحب اپنی اولادکو ہمیشہ تائید خلافت ثانیہ کی تلقین کرتے رہتے تھے۔( بیان شیخ عبدالرحمن صاحب) خلافت ثانیہ سے اختلاف رکھنے والوں نے بالآخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام کے بارے بھی نیا موقف اختیار کیا لیکن اخبار وطن کے تعلق میں منشی صاحب نے جو اپیل حضور علیہ السلام کی خدمت میں کی تھی (جو پہلے درج ہو چکی ہے۔) اس سے ظاہر ہے کہ آپ حضور کے عہد مبارک میں کیا مقام حضور کا یقین رکھتے تھے۔اور پھر تا دم واپسیں آپ اپنے اس عقیدہ راسخ پر قائم رہے۔؟ اس وقت کے حالات کا اندازہ امور ذیل سے ہوتا ہے۔جن سے منشی صاحب کی تائید وحمایت خلافت اخبار وطن کے تعلق میں مضمون مذکورہ زیر عنوان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدیمی صحابہ کرام کا مذہب منشی تنظیم الرحمن صاحب کے ذیل کے تشریحی کلمات کے ساتھ دوبارہ الحکم ۲۸ نومبر ۱۹۲۱ء میں ☆ شائع ہوا۔مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب نے ایڈیٹر وطن سے خط و کتابت کر کے ریویو آف ریلیجنز کی بابت یہ طے کیا تھا کہ اس میں حضرت مسیح موعود کے دعویٰ کا تذکرہ نہ ہوگا اور اس کی تکمیل کے واسطے ایک ضمیمہ شائع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اور ایسا کرنے پر مولوی انشاء اللہ صاحب ایڈیٹر اخبار وطن نے ریویو کے لئے خریدار بھی دینے کا ۸، ایک عریضہ بطور اپیل گذارش کیا جو بغرض جواب واشاعت حوالہ مولوی محمد علی صاحب کیا گیا۔ہم کو معلوم ہوا ہے کہ جس دن یہ عریضہ حضور نے پڑھا اسی دن ایک تقریر بھی مسجد مبارک میں فرمائی تھی جو اسی مضمون پر تھی۔“ ی مضمون منشی حبیب الرحمن صاحب کے حالات میں بھی الحکم ۲۱ اگست ۱۹۳۵ء میں درج ہوا ہے۔