اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 447 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 447

447 باعث آپ کا حساب نامکمل تھا ان کے فرزند حضرت عبدالمجید خان صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام حبی فی اللہ کے ساتھ مخاطب کر کے ۱۴ جون ۱۹۰۷ کور قم فرماتے ہیں کہ آپ کے واسطے دعا کی جاتی ہے۔حساب سرکاری میں اللہ تعالیٰ سہولت عطا فرمائے آپ کا قریباً ہر روز خط پہنچتا ہے“ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بذریعہ وحی بتا دیا تھا۔کہ ان کی اولا د کے ساتھ نرم سلوک کیا جائے گا۔ایام علالت کے حساب کی تکمیل کا کام حضرت منشی اروڑے خاں صاحب اور حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب کر رہے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق حساب میں سہولت اور اولاد کے ساتھ نرم سلوک کے انوار ظاہر کر دیئے۔اور مرحوم ہی کا کچھ روپیہ ایصال طلب ( قابل وصول ) ثابت ہوا اور حکومت (ریاست) کپور تھلہ نے اسے ادا کر دیا۔(۹۰) (از مؤلف یہ وحی نہایت شان سے پوری ہوئی کہ اپنے والد کی جگہ خان عبدالمجید خان صاحب کو افسر بگھی خانہ بھی مقرر کر دیا گیا تھا۔پھر وہ ترقی پا کر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے تھے۔) (9+) سواس وحی کے نشان کے پوری شان سے اور غیر معمولی حالات میں جبکہ خطرہ تھا کہ عظیم رقم مرحوم کے خاندان کے ذمہ پڑے گی پورا کرنے کے اہل اور دست و باز وعند اللہ یہ دو بزرگ ثابت ہوئے- و ذلک فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذُو الفضل العظيم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال حضرت اقدس کے وصال کی خبر منشی حبیب الرحمن صاحب کو ایسے وقت میں ملی کہ آپ وقت پر نماز جنازہ میں شرکت کے لئے نہ پہنچ سکے۔آپ اس صدمہ سے اس قدر غمگین تھے کہ آپ کے منہ سے آواز نہ نکلی تھی۔آپ نے خلافت اولیٰ کی بیعت کی۔آپ کو حضرت مسیح موعود اور حضور کے خاندان سے ایک قسم کا عشق تھا۔حضور کے ذکر پر بعض دفعہ بے قرار ہو کر روتے روتے آپ کی پہچکی بندھ جاتی اور بے اختیا ر آپ کے منہ سے نکلتا کہ ہم تو یتیم رہ گئے۔ره بیان منشی تنظیم الرحمن صاحب مصدقہ منجانب منشی ظفر احمد صاحب ( الحکم کے راگست ۱۹۳۵، صفحه ۸ کالم او ۲ راگست صفحه ۷ کالم صفحہ ۸ کالم ۳)