اصحاب احمد (جلد 10) — Page 440
رہی ہے۔خاکسار 440 غلام احمد ۱۳ را گست ۱۸۹۲ء (۳) بسم اللہ الرحمن الرحیم مجی مشفقی اخویم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مدت کے بعد آپ کا عنایت نامہ مجھ کو ملا۔ایک رسالہ آپ کے نام روانہ ہو گیا ہے۔دافع الوساس بعد اس کے شائع ہوگا۔زیورات کی نسبت جو آپ نے دریافت کیا ہے، یہ اختلافی مسئلہ ہے مگرا کثر علماء اس طرف گئے ہیں کہ جو زیور مستعمل ہو اس کی زکوۃ نہیں ہے مگر بہتر ہے کہ دوسرے کو عاریتاً کبھی دیدیا کریں مثلاً دو تین روز کے لئے کسی عورت کو اگر عاریتا پہننے کے لئے دیدیا جائے تو پھر بالاتفاق ساقط ہو جاتی ہے۔خواب آپ کی نہایت عمدہ ہے۔راقم خاکسار والسلام غلام احمد از قادیان ۲۵ جنوری ۱۸۹۲ء بقیہ حاشیہ: حوالہ جات سے یہ معمولی اختلاف ہے۔ا۔فرمائے کی بجائے ” فرمادے“ ۲ - تاریخ ۷ ارمنی کی بجائے ۲۷ مئی شیخ عبد الرحمن صاحب مقیم اسلام آباد ۱۸ مارچ ۱۹۸۰ء کے مکتوب میں ذیل کی وضاحت کرتے ہیں:۔موصوفہ ہمشیرہ والد صاحب مسماۃ امت الوہاب صاحبہ زوجہ اہتمام الدین صاحب اولین زچگی کے چھلہ میں وفات پاگئیں۔اہتمام الدین نے حج پر جانے پر مکہ مکرمہ میں وفات پائی اس جوڑے کا کم سن بچہ حاجی برہان الدین وہاں سے واپس آ کر کچھ عرصہ منشی حبیب الرحمن صاحب کے پاس مقیم رہا پھر یہ کسی چھا پہ خانہ میں ملازم ہو گئے اور میرٹھ میں شادی کر لی۔اکلوتی اولا دلڑکی کے ساتھ بعد تقسیم ملک کراچی پہنچے اس کے ساتھ ناظم آباد میں بعمر اٹھاسی برس مقیم ہیں۔مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر پنجم ( مکتوب نمبر ۱۱/۳ صفحه ۵۴ ۵۵) والحکم ۲۸ جنوری ۱۹۳۴ء (صفحہ ۷ کالم ۱و۲ ) و نقل بقلم منشی تنظیم الرحمن صاحب