اصحاب احمد (جلد 10) — Page 424
424 شہادت پیش کردہ فریقن کا یہ ہی نتیجہ ہے کہ مسجد نہ وقف ہو چکی ہوئی ہے اور یہ امر مسلمہ قانون ہے کہ وقف شدہ چیز ملکیت نہیں رہتی ہے۔نسبت امر دوم : شہادت پیش کردہ فریقین کا نتیجہ ہے کہ وقت تعمیر مسجد حاجی صاحب بانی مسجد اہل سنت اجماعت تھے۔مدعی نے اس امر کے ثبوت میں کہ حاجی صاحب نے مسجد کی تعمیر اور وقف ہو چکنے کے بعد اپنا اعتقاد تبدیل کر لیا تھا۔یعنی مرزا صاحب کے مرید ہو گئے تھے۔محض ایک خط تحریر کردہ حاجی صاحب اسمی * مرزا صاحب مورخه ۲۲ / جنوری ۱۸۸۵ء پیش کیا اور اس خط کی جس جس عبادت سے مدعی یہ نتیجہ نکالتا ہے اس اس پر پنسل سرخ کے نشانات دیے گئے ہیں اور اس عبارت کو عدالت نے بغور تمام مدعی کے محتاط سے سنا اور پڑھا اس سے عدالت کو یہ نتیجہ نکالنے میں (که ) حاجی صاحب مرحوم مرزا صاحب قادیان کے مرید ہو گئے تھے۔بالکل تأمل ہے عدالت اس سے صرف اس قدر نتیجہ نکال سکتی ہے۔کہ وقت تحریر کرنے اس خط کے حاجی صاحب مرحوم مرزا صاحب کو نہایت نیک پارسا اور دین اسلام میں عالم متصور کرتے تھے۔اور مدعی کسی شہادت سے حاجی صاحب مرحوم کا مرزا صاحب کا مرید ہونا ثابت نہیں کر سکا اس لئے عدالت قرار دیتی ہے کہ حاجی صاحب نے اپنا اعتقاد تبدیل نہیں کیا تھا۔اور اپنی وفات تک حاجی صاحب نے اپنا اعتقاداہل سنت جماعت ہی رکھا تھا۔نسبت سویم۔شہادت پیش کردہ فریقین سے ظاہر ہے کہ مسجد کو تعمیر ہوئے عرصہ قریباً چالیس سال کا گذرتا ہے یا کہ اس سے دو تین سال کم ہوں گے۔یہ امر ظاہر ہے اور فریقین (میں) سے کسی کو اس میں انکار نہیں ہے۔کہ اس وقت مرزا صاحب کا کوئی دعوے ظہور میں نہیں آیا تھا۔اور نہ کوئی کتاب ان کی اس وقت شائع ہوئی تھی مرزا صاحب کے مریدان کا اس وقت وجود ہی موجود نہ تھا۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسجد اہل سنت جماعت کی نماز پڑھنے کے واسطے وقف ہوئی تھی اور یہ ہی شہادت سے ثابت ہوتا ہے۔نسبت امر چهارم - زیادہ بحث کی ضرورت نہیں کیونکہ اوپر ثابت ہو چکا ہے کہ حاجی صاحب مرحوم نے اپنی وفات تک اپنا اعتقاد بدلا نہیں تھا نسبت امر پنجم۔یعنی بنام (مؤلف)