اصحاب احمد (جلد 10) — Page 420
420 ہمارے مسجد کا فیصلہ کرنے والا نہیں ہے کوئی اور حاکم ہے جو اس مسجد کا فیصلہ کرے گا۔یہ خواب بھی مشتہر کر دی گئی۔جب پیشی مثل کا دن آیا تو کثرت مقدمات کی وجہ سے پیش نہ ہوسکی اور تاریخ بدل گئی حتی کہ چھ ماہ گذر گئے اور تاریخیں بدلتی رہیں۔اور اس حاکم کو توفیق نہ ملی کہ کچھ کم لکھ سکتا اس دوران میں ایک احمدی نے خواب دیکھا کہ وہ بازار میں جارہا ہے۔راستے میں ایک شخص نے کہا کہ وہ حاکم جو تمہاری مثل کا فیصلہ کرنے والا تھا۔فوت ہو گیا ہے۔۔چنانچہ ایک روز ) دس بجے دن کے حاکم اور اس کے بیٹے نے مل کر کھانا کھایا۔بیٹا کھانا کھا کر کوٹھی کے چبوترے پر ٹہلنے لگا۔خدمت گار (حقہ کی) چلم بھرنے چلا گیا۔اور سواری کچہری جانے کے لئے آگئی جب خدمت گار چلم لے کر واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ حاکم کی دل کی حرکت بند ہوگئی۔اور وہ مر گیا (ہے) جس شخص نے خواب میں اس احمدی کو مرنے کی خبر دی تھی اس نے اس احمدی کو مل کر حاکم کے مرنے کی خبر دی۔اس حاکم کے فوت ہو جانے پر ایک آریہ حج مقرر ہوا جو احمدیوں کا سخت مخالف تھا۔آخر مثل اس کے پیش ہوئی جس نے دو جوں کی اتفاق رائے سے فیصلہ کرنا تھا۔مگر دونوں کی رائے متفق نہ ہو سکی۔ایک کی رائے یہ ہوئی کہ غیر احمدیوں کو مسجد دی جائے اور دوسرے کی یہ کہ احمدیوں کو دی جائے اس پر یہ رائے قرار پائی کہ انگریزی گورنمنٹ کے کسی بیرسٹر کی رائے لی جائے جس کی رائے سے وہ اتفاق کرے وہی فیصلہ ناطق ہو۔آریہ حاکم کا ایک برادر زادہ بیرسٹر تھا۔اس کے پاس مثل بھیجی گئی اور اس کو پچاس روپے فیس کے دیئے گئے جو فریقین سے نصفا نصف لے لئے گئے۔اس بیرسٹر کے پاس یہ مشل دیر تک پڑی رہی۔فریق مخالف ہو نے اس کے پاس سفارش لے جانے کی بہت کوشش کی مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت ماتحت عدالت کا فیصلہ بحال رہا اور مسجد احمد یوں کو دے دی گئی۔۔۔پیشگوئی پوری ہوگئی۔الحمد لله على ذلک۔میں ایک روز ڈاکٹر شفاعت احمد مذکور کے مکان پر بیٹھاہوا تھا۔اور بھی کچھ آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر آ گیا۔تو میں نے ڈاکٹر شفاعت احمد سے کہا کہ آپ نے تو وعدہ کیا تھا۔کہ اگر مسجد احمدیوں کو دلائی گئی تو میں حضرت مسیح موعود پر ایمان لے آؤں گا اب آپ پر واجب ہے کہ ایمان لے آئیں۔حمد یہاں سہوا ” فریقین درج ہوا ہے۔ناقل