اصحاب احمد (جلد 10) — Page 419
419 تک غیر احمدیوں کے حق میں لکھتا گیا۔مگر جب اخیر پر پہنچا تو خدا تعالیٰ نے اس کے دل کو پھیر دیا اور یہ حکم دیا کہ مسجد احمدیوں کو دی جاتی ہے۔ان کو انتظام کے متعلق پورا حق حاصل ہو گا۔غیر احمدی فرداً فرداً نماز پڑھ سکتے ہیں۔دوران مقدمہ میں ایک احمدی نے خواب دیکھا کہ حاکم ایک مکان بنا رہا ہے۔تمام دیوار میں مکان کی غیر احمد یوں کے واسطے بنائی جارہی ہیں مگر جب چھت ڈالنے لگا تو احمدیوں کے واسطے ڈالی۔غیر احمدیوں کی طرف سے اس فیصلہ کا اپیل ہوا۔دو برس تک مقدمہ رہاہر قسم کی سفارشیں ہوئیں مگر عدالت ماتحت کا فیصلہ بحال رہا۔حضرت اقدس دہلی سے قادیان تشریف لا رہے تھے۔لدھیانہ (میں) خاکسار فیاض علی اور منشی عبدالرحمن صاحب کپورتھلہ سے حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے۔۔۔۔۔۔دوسرے دن (بعد تقریر) خاکسار نے عرض کیا کہ جماعت کو نماز کی بہت تکلیف ہے۔مسجد کے واسطے دعا فرمائی جائے اس سے پیشتر بھی چند مرتبہ مسجد کے واسطے یاد دلا چکا تھا۔حضور نے فرمایا کوئی ضرورت دعا کی نہیں ہے اگر یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے تو مسجد تمہارے پاس واپس آ جائے گی۔” میں نے اس پیشگوئی کا کپورتھلہ اور لدھیانہ میں عام طور سے اعلان کر دیا اور مسجد میں بھی لکھ کر لگا دیا اور ہر ایک کو متنبہ کیا کہ حکام رعایا ، چھوٹے بڑے سب زور لگا لیں مگر مسجد ہمارے پاس واپس آئے گی۔اس پیشگوئی پر ہر ایک کو تعجب تھا کہ کیسے پوری ہو سکتی ہے۔غیر احمدی نے مسجد بنائی اور غیر احمدی کے پاس آخر * اپیل ہے جس کے ایماء سے احمدی جماعت مسجد سے نکالی گئی تھی ایک شخص شفاعت احمد جو ہومیو پیتھک ڈاکٹر تھا، اس نے کہا کہ مسجد تمہارے پاس واپس آگئی تو میں مسیح موعود پر ایمان لے آؤں گا۔بالآ خرابیل ریاست کے چیف کورٹ میں پیش ہوئی۔فریقین حاضر عدالت ہوئے۔جج نے مثل دیکھ کر حکم دیا ( کہ ) غیر احمدیوں نے مسجد بنائی اور غیر احمدی ہی قابض ہیں لہذا غیر احمد یوں کو مسجد دی جاتی ہے۔فریقین عدالت سے باہر آ گئے۔اس وقت وہی ڈاکٹر شفاعت احمد مجھ کو ملا۔سلام کر کے کہنے لگا کہ تمہارے مسیح موعود کی پیشگوئی کہاں گئی ؟ مسجد تو غیر احمدیوں کو مل گئی۔میں نے اس کو جواب دیا کہ حکم کے لکھنے میں ابھی دورا تیں درمیان ہیں۔اور اس کے اوپر ایک احکم الحاکمین ہے۔انتظار کرو کہ وہ فریقین میں کیا فیصلہ کرتا ہے۔میں نے اس کو تحدی کے ساتھ کہا کہ زمین و آسمان ٹل جائیں گے مگر مسیح موعود کی پیشگوئی نہیں ملے گی۔وہ میرے یہ فقرے سن کر حیران ہو گیا۔و منشی حبیب الرحمن (صاحب) احمدی نے جو اس مسجد کے متولی تھے رات کو خواب میں دیکھا کہ یہ حاکم یعنی آخری۔ناقل