اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 418 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 418

418 کہ یہ بات اب غیر یقینی ہو سکتی ہے۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ محلہ کے ایک ڈاکٹر صاحب کے ساتھ منشی صاحب کی شرط بندھ گئی کہ اگر مسجد احمدیوں کو مل جائے تو وہ ڈاکٹر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرلے گا۔ورنہ منشی صاحب اپنی بیعت سے دستکش ہوں گے۔یہ بات ٹھن گئی۔اور اس سے ظاہر ہے کہ دونوں فریق کو اپنی اپنی کامیابی کے متعلق کسی قسم کا کوئی شک نہ تھا۔بالآ خر مسجد کا فیصلہ احمدیوں کے حق میں ہوا۔اور نہایت مخالفانہ حالات کے باوجود ہو ا۔آخری عدالت کے حاکم نے ہمارے خلاف فیصلہ کرنا چاہا۔وہ بحث سن چکا تھا۔اور مخالفانہ انداز خیال ظاہر کر چکا تھا۔بحث کے بعد مقدمہ فیصلہ پر رکھا گیا کہ ایک دن وہ کچہری آنے کی تیاری میں تھا کہ اچانک حرکت قلب بند ہو جانے سے اس کی موت واقع ہو گئی۔منشی عبدالسمیع صاحب کپور تھلوی ایک روز پیشتر یہ ردیاد یکھ چکے تھے کہ کسی شخص نے بازار میں ان سے ذکر کیا ہے کہ اس حاکم کی اچانک موت واقع ہوگئی ہے۔دوسرے دن یہ واقعہ من و عن ظہور میں آیا اور بازار میں جاتے ہوئے ایک شخص نے منشی صاحب سے یہ ذکر کیا کہ وہ حاکم فوت ہو گیا ہے گویا ان کا رویا من وعن پورا ہوا اور حضرت صاحب کی بات پوری ہوئی۔گفته او گفته الله بود گر چه از حلقوم عبد الله بود مقدمہ کی بحث سننے کے بعد حاکم کا فوت ہو جانا مسل متعلقہ سے ثابت ہے۔☆ (۳) حضرت منشی فیاض علی صاحب نے اس بارے میں یہ رقم فرمایا تھا کہ حاجی ولی اللہ صاحب کی اس مسجد کے نام سولہ گھماؤں اراضی ریاست کپورتھلہ کی طرف سے کاغذات میں درج تھی اور اس مسجد کے متولی منشی حبیب الرحمن صاحب احمدی تھے۔” جب حضرت مسیح موعود نے اعلان فرمایا کہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔اس وقت جماعت کے متعلق اس مسجد کپورتھلہ کی احمدی جماعت میں گنتی کے چھ آدمی تھے اور باقی سب غیر احمدی ، اعلیٰ حکام کے ایماء سے شہر والوں نے احمدی جماعت کو مسجد سے نکال دیا جب حضرت صاحب سے سارا حال بیان تو حضور نے فرمایا (کہ) اپنے حقوق کو چھوڑ نا معصیت ہے۔عدالت سے چارہ جوئی کرو۔حسب لارشاد استقرار حق کا دعوی دائر کیا گیا۔یہ مقدمہ سات سال تک اپیل در اپیل عدالت میں دائر رہا۔پہلی عدالت سے فیصلہ احمدیوں کے حق میں ہوا اور صورت یہ ہوئی کہ حاکم اپنی تحریر میں شروع سے لے کر اخیر اصحاب احمد جلد چہارم (طبع سوم صفحہ ۱۶و۱۷) حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے بھی بیان فرمایا تھا کہ کپور تھلہ کی مسجد کا مقدمہ تھا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ اگر میں سچا ہوں تو یہ مسجد ضرور ملے گی۔(۷)