اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 417 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 417

417 جانے سے پہلے وہ حقہ پی رہا تھا کہ خون کی قے آئی۔اس نے مقدمہ کی مثل منگوائی تا فیصلہ غیر احمدیوں کے حق میں لکھ دے لیکن مثل آنے سے پہلے ہی اسے دوسری قے آئی الغرض وہ مر گیا۔غیر احمدیوں کی انتہائی مخالفت اور کوشش پر بھی مسجد احمدیوں کے قبضہ میں رہی۔یہ مجسٹریٹ جو اس نشان کا موضوع ٹھہرا، میاں عزیز بخش تھا جو ریاست میں بہت بڑا اعزاز رکھتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس کو توفیق اور مہلت نہ دی کہ وہ خلاف فیصلہ لکھے۔والله لحمد“ (۲) مکرم شیخ محمد احمد صاحب مظہر تحریر فرماتے ہیں کہ مخالفین کے احمد یہ مسجد پر قبضہ کر لینے پر احمدیوں کو عدالت کی طرف رجوع کرنا پڑا۔عمائد ورؤسائے شہر مدعی علیہم تھے۔احمدی چند حباب تھے جو انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں ان کا رسوخ واثر کوئی نہ تھا۔جماعت مسجد چھن جانے کی وجہ سے بے کس اور مظلوم تھی لیکن حالات غیر موافق تھے۔جو شخص یہ یقین کرتا کہ مسجد احمد یوں کومل جائے گی کپورتھلہ کے اس ماحول میں یقیناً اسے کوتاہ اندیش تصور کیا جاتا۔مخالفین کو یقین کامل تھا کہ عدالت ان کے حق میں فیصلہ کرے گی۔میں نے بچپن میں مخالفین کے یہ تیور دیکھے ہیں۔احمدیوں کے راستے تک بند تھے۔منشی عبدالرحمن صاحب چکر کاٹ کر گھر کو جاتے۔حافظ امام الدین صاحب امام مسجد احمدیہ کو پیٹا گیا اور گھسیٹا گیا۔ان کی پگڑی میں آگ پھینکی گئی۔احمدیوں کو گالی گلوچ کرنا ایک عام بات تھی بعض آوارہ طبع لوگ راستہ روکے رہتے تھے اور احمدیوں کوستا نا اور ان کو گالی دینا ان کا ایک محبوب اور ان کے نزدیک موجب ثواب مشغلہ تھا۔سات سال تک یہ مقدمہ جاری رہا۔اتفاقاً دوران مقدمہ میں منشی فیاض علی صاحب نے لدھیانہ کے مقام پر ایک محفل میں بڑے عجز والحاح سے آبدیدہ ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ ہم سے مسجد چھن گئی ہے۔حضور دعا فرمائیں کہ وہ ہمیں مل جائے۔حضرت صاحب نے بڑے جلال کے رنگ میں فرمایا کہ اگر میں سچا ہوں اور میر اسلسلہ سچا ہے تو مسجد تمہیں ضرور ملے گی۔“ صداقت کے بیان کرنے میں منشی فیاض علی صاحب بڑے بے دھڑک آدمی تھے۔انہوں نے لدھیانہ سے واپس آ کر مخالفین سے اعلانیہ اس بات کا اظہار کر دیا کہ حضرت صاحب نے یہ الفاظ فرمائے ہیں۔فَانتَطرُهُ إِنِّي معكم من المنتظرين - دوران مقدمہ میں اس قسم کی تحدی اور مخالفین سے اظہار احتیاط کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔تو ہو لیکن منشی صاحب نے حضرت صاحب کے منہ سے مندرجہ بالا الفاظ سنے تھے۔اور ان کے واہمہ میں بھی یہ بات نہ آ سکتی تھی