اصحاب احمد (جلد 10) — Page 416
416 مسجد کپورتھلہ کا مقدمہ اور معجزانہ کامیابی کا نشان جماعت کپورتھلہ کی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کئی نشانات وہاں ظاہر ہوئے۔سب سے بڑانشان وہاں کی مسجد کے متعلق ہے۔۱۹۰۵ء میں دہلی سے مراجعت پر حضور نے لدھیانہ میں ایک پبلک تقریر فرمائی تھی۔جلسہ میں سیالکوٹ وغیرہ شہروں سے بہت سے لوگ آئے ہوئے تھے۔جلسہ گاہ میں منشی فیاض علی صاحب نے عرض کیا کہ ہماری مسجد کا مقدمہ دائر ہے۔شہر کے تمام رؤسا اور حکام غیر احمدیوں کی امداد کر رہے ہیں۔ہم معدودے چند احمدیوں کی بات بھی کوئی نہیں سنتا۔حضور دعا فرمائیں اس پر حضور نے فرمایا کہ اگر ہمارا سلسلہ سچا ہے تو یہ مسجد تم لوگوں کومل جائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔حاکم اول نے فیصلہ غیر احمدیوں کے حق میں دیا اور چار ورق پر لکھا اور کہا کہ ہم فیصلہ کل سنادیں گے۔وہاں دستور تھا کہ حاکم اپنا بستہ گھر لے جایا کرتے تھے۔چنانچہ اس کا بستہ اس کے گھر پہنچا۔اس کے ایک آدمی کی زبانی جو کہ جمعدار تھا معلوم ہوا کہ رات کے دو بجے وہ حاکم اٹھا خدا جانے اسے خواب میں کیا نظر آیا۔اپنا بستہ طلب کر کے اس نے آخر کے دو ورق پھاڑ دیئے اور مقدمہ کا فیصلہ احمدیوں کے حق میں کر دیا۔جس میں لکھا کہ غیر احمدیوں کو اس مسجد میں نہ اذان دینے کا حق ہے نہ جماعت کرنے کا۔اگر ان کو نماز پڑھنا ہے تو احمدی امام کے پیچھے پڑھیں۔اگر اس فیصلہ کو کوئی دیکھے تو اسے بڑا تعجب ہو۔اول دود ورق کا مضمون ایسا ہے کہ گویا غیر احمدیوں کو مسجد دے گا۔لیکن آخری دو ورق میں احمدیوں کے حق میں فیصلہ کیا گیا ہے۔مخالفین کی اس پر اپیل کو جج نے جو ہند و تھارڈ کر کے ماتحت عدالت کا فیصلہ بحال رکھا پھر عدالت بالا میں اپیل ہوئی۔ہمارے وکیل نے کہا کہ یہ حاکم آریہ ہے۔مخالفت مذہبی کی وجہ سے فیصلہ جماعت کے خلاف ہو گا۔اس حاکم نے ایک بڑے وکیل کے پاس مثل رائے کے لئے بھیج دی۔اس وکیل نے بلا رور عایت جماعت احمدیہ کے حق میں رائے دی جبکہ مخالفین کی طرف سے وکیل کے استاد حکیم جعفر علی بھی اثر ڈالنے کے لئے آئے تھے۔پھر مخالفین کی طرف سے اپیل کونسل میں ہوئی جس کے تین ججوں میں سے ایک غیر از جماعت تھا۔جب غیر احمدی اس کے پاس جاتے تو وہ ان کو تسلی دیتا اور کہتا کہ آخر کار یہ اپیل ہمارے پاس ہی آئے گی۔ہم تم لوگوں کو یہ مسجد دلاویں گے تم کچھ فکر نہ کرو۔اس نے احمدیوں سے کہہ بھی دیا کہ یہ مسجد پرانے مسلمانوں کو دی جائے گی۔تم نے نیا مذہب اختیار کیا۔تم نئی مسجد بناؤ اور یہ بھی کہا کہ اگلی پیشی میں فیصلہ سنادیا جائے گا لیکن اگلی پیشی سے پہلے ہی وہ مر گیا۔اس کی موت اس طرح واقع ہوئی کہ ایک دن کچہری