اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 410 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 410

410 اسمعیل صاحب اسٹمنٹ سرجن کو روانگی کا تار دیا گیا تھا مگر وہ یہ خیال کر کے کہ غالبا حضرت اقدس نہیں آئیں گے شب گزشتہ کو دہلی سے مع حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد (صاحب) اور میر ناصر نواب صاحب قبلہ روانہ ہو چکے تھے۔ان کو تار نہیں مل سکا۔اور اسی وجہ سے دہلی کی جماعت بھی اسٹیشن پر نہ آ سکی لیکن تین بجے کے بعد تار مذکور پھرتا پھرا تا ڈاکٹر میر محمداسماعیل خاں صاحب کو ملا۔وہ اطلاع پاتے ہی اسٹیشن کو بھاگتے ہوئے آئے اور راستہ میں باغ میں ہمیں آکر ملے۔،، (۶۷) دہلی کے عرصہ قیام میں حضور کی کوئی پبلک تقریر نہیں ہوئی البتہ بعض علماء نے آ کر حضور سے ملاقات کی اور دینی امور کے بارے گفتگو کی۔حضور نے فرمایا کہ قبرستان میں انسان کو اپنا مقام یاد آ جاتا ہے۔کہ انسان دنیا میں مسافر ہے آج زمین کے اوپر ہے تو کل زمین کے نیچے ہے۔حضور نے بزرگان حضرت شیخ احمد سر ہندی کے مرشد حضرت خواجہ باقی باللہ - حضرت خواجہ میر درد ، حضرت شاہ ولی اللہ اور ان کے والد حضرت شاہ عبدالرحیم ،حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء اور حضرت امیر خسر ورحمۃ اللہ علیہم اجمعین کی قبور پر جا کر دعائیں کیں اور فرمایا کہ ان کے لئے بھی اور اپنے لئے بھی دعا کی جانی چاہیے۔) اہالیان دہلی نے حضور کی آمد سے استفادہ نہیں کیا۔ایک صاحب نے اپنے اخبار میں حضور کے خلاف زہرا گلا اور مناظرہ طلبی کی۔حضور جب حضرت خواجہ شیخ نظام الدین اولیاء کے مزار پر تشریف لے گئے تو خواجہ احسن نظامی صاحب کے اصرار پر ۱۲ نومبر کو ایک تحریر بھجوائی جس میں لکھا کہ (YA) ” جب مجھے دہلی والوں سے محبت اور انس محسوس نہ ہوئی تو میرے دل نے اس بات کے لئے جوش مارا کہ وہ ارباب صدق و وفا اور عاشقانِ حضرت مولیٰ جو میری طرح اس زمین کے باشندوں سے بہت ساجور و جفا دیکھ کر اپنے محبوب حقیقی کو جاملے ان کی متبرک مزاروں کی زیارت سے اپنے دل کو خوش کرلوں، (۶۹) دہلی سے سفر مُراجعت اس سفر دہلی سے مراجعت کے موقع پر حضرت مولوی عبدالقادر صاحب نے دہلی آ کر بطور نمائندہ جماعت لدھیانہ عرض کیا کہ واپسی پر حضور لدھیانہ میں قیام فرمائیں۔حضورم رنومبر ۱۹۰۵ء شام کو دہلی سے روانہ ہو کر دوسرے روز قریباً گیارہ بجے قبل دو پہر ریل گاڑی میں لدھیانہ پہنچے۔اسٹیشن پر جس قدر جم غفیر تھا، اس کا شمار نہیں بتایا جا سکتا۔بجز اس کے کہ ہزاروں انسان ہر طبقہ، عمر اور مذاق کے موجود تھے۔ایک مقامی اخبار کے مطابق