اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 409 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 409

409 تشریف لے آئے اور اس کے کچھ دیر بعد لاہور سے حکیم محمدحسین صاحب، ماسٹر غلام محمد صاحب اور حکیم صاحب کے پسر محمد یوسف صاحب بھی آپہنچے۔حضرت اقدس گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم کے ایک ایسے حصہ پر جہاں مسافروں کی آمد ورفت نہیں، درختوں کے نیچے حلقہ خدام میں تشریف فرما ہوئے۔مستورات تھوڑی دور ایک طرف بیٹھ گئیں۔امرتسر بھی اطلاع نہیں دی گئی تھی لیکن ڈاکٹر عبداللہ صاحب کو خبر ہوگئی۔اور وہ دوڑے ہوئے اسٹیشن پر پہنچے اور احباب امرتسر کو بھی انہوں نے حتی المقدور اطلاع دی۔اور اس جماعت کی طرف سے کھانا پیش کرنے کی اجازت لے کر شہر گئے اور یہ عجلت نماز مغرب ہوتے ہوتے نہایت فراخدلی کے ساتھ مکلف کھانا تیار کر کے لائے جن احباب امرتسر کو اطلاع ہو چکی تھی وہ ڈاکٹر صاحب کے جانے کے بعد حصول نیاز کی خاطر حاضر ہوئے اور ملاقات کر کے بہت خوش ہوئے مغرب وعشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھی گئیں اور احباب امرتسر ٹرین کی نوبجے شب کے قریب روانگی تک حاضر رہے۔جماعت بنگہ کی ملاقات پھر امرتسر میں ہوگئی۔اور یہ احباب پھگواڑہ تک حضرت اقدس کے ساتھ سفر میں شامل رہے۔" کرتار پوراسٹیشن سے جماعت کپورتھلہ کے معزز احباب نے اعلیٰ حضرت حجتہ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور شرف نیاز پایا۔خاں صاحب عبدالمجید خاں صاحب انچارج آفیسر لکھی خانہ اور کئی اور بھائی چھاؤنی جالندھر تک ساتھ گئے۔منشی حبیب الرحمن نمبر دار ورئیس حاجی پور متصل پھگواڑہ بھی حاضر ہوکر سعادت اندوز ہوئے“ باوجود یکہ سفر رات کا اور پھر طویل تھا تا ہم کسی اسٹیشن پر بھی خدام ڈبے کے سامنے آکر السلام علیکم کہتے تو حضور بڑی مستعدی سے فورا اٹھتے اور تقسیم کرتے ہوئے مصافحہ کرتے ان کی خیریت پوچھتے اور خوش ہوتے تھے۔احباب جماعت لدھیانہ (براہ راست ) اطلاع ملے بغیر کئی روز سے ریلوے اسٹیشن پر آ رہے تھے۔اس وقت بھی نصف شب کے بعد سردی میں ٹھٹھرے موجود تھے۔امید تھی کہ خاں صاحب ذوالفقار علی خاں صاحب اور جماعت میرٹھ وہاں ملے گی۔لیکن ان کو تار نہیں ملا تھا۔☆ دہلی میں پہنچنے کے سلسلہ میں مرقوم ہے کہ تین بجے کے قریب ہم دہلی پہنچے وہاں بھی عجیب حالت ہوئی۔بٹالہ سے روانہ ہوتے وقت میر محمد الحکم ۱۰ر دسمبر ۱۹۰۵ء ( صفحه ۴ و۵ ) و ۷ار دسمبر (صفحہ ۱۱) و بدر ۲۷/اکتوبر ( صفحه ۲) حضرت حکیم دین محمد صاحب مهاجر دارالرحمت وسطی ربوہ جن کو حضرت مصلح موعودؓ کے ہم جماعت ہونے کا شرف حاصل ہوا ، بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۰۵ء میں اس سفر کے موقع پر میں نے دیکھا کہ منشی صاحب نے حضرت اقدس اور حضور کے قافلہ کو ریلوے اسٹیشن پھگواڑہ پر دو پہر کا کھانا پیش کیا تھا۔