اصحاب احمد (جلد 10) — Page 371
371 مسلمان بنانے کا شوق ہوتا ہے۔وہ اس بات کے بڑے ہی خواہشمند پائے جاتے ہیں۔کہ کسی مسلمان پر خواہ نخواہ کفر کا فتوی لگ جائے گو کفر کی ایک بھی وجہ نہ پائی جائے۔اور ان کے شاگر در شید میاں محمد حسین بٹالوی۔۔۔تکفیر کے شوق میں اپنے استاد سے بھی کچھ بڑھ چڑھ کر ہیں۔“ میں نے دہلی میں اشتہارات میں بار بار ظاہر کیا کہ میں مسلمان ہوں اور عقیدہ اسلام رکھتا ہوں۔مسئلہ وفات مسیح کے متعلق میاں نذیر حسین نے بار بار کی درخواست پر بھی توجہ نہ کی نہ بحث کی نہ قسم کھائی اور نہ کافر کہنے سے باز آئے۔البتہ اس کنارہ کشی کی ذلت کو لوگوں سے مخفی رکھنے کے لئے جھوٹے اشتہارات شائع کئے کہ وہ تو بحث کرنے پر تیار تھے۔لیکن یہ عاجز ہی ان سے ڈر گیا حالانکہ یہ عاجز قادیان سے جا کر خرچ کر کے اور حرج کر کے ایک ماہ دہلی میں ٹھہرا۔سانچ کو آنچ نہیں میں اب بھی وفات مسیح پر بحث کے لئے تیار ہوں اگر میاں صاحب لاہور آ کر بحث کرنے کو تیار ہوں تو ان کی تحریر آنے پر بلا توقف ان کو آمد ورفت کا کرایہ پیشگی بھیج دوں گا۔مگر یہ پیشگوئی یا درکھو کہ وہ ہر گز بحث نہ کریں گے اور اگر کریں گے تو ایسے رسوا ہوں گے کہ منہ دکھانے کی جگہ نہ رہے گی۔بالغ نظر جانتے ہیں کہ وہ خواستہ ایزدی پورا ہو گیا۔اور نذیر حسین کے تقویٰ اور خدا پرستی اور علم اور معرفت کی ساری قلعی کھل گئی اور ترک تقویٰ کی شاعت سے ایک ذلت ان کو پہنچ گئی مگر ایک اور ذلت ابھی باقی ہے جو ان کے لئے اور ان کے ہم خیال لوگوں کے لئے تیار ہے جس کا ہم ذکر کرتے ہیں“ ایک شخص اپنے متعلق یہ کہتا ہے کہ وہ مومن ہے اور تمام فرائض و احکام الہیہ پرحتی الواسع عمل پیرا ہے لیکن علماء اسے کا فر مفتری دجال و ملحد قرار دیتے ہیں۔تو اس بارے میں فیصلہ کا ایک آسمانی طریق ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک برگزیده گروه میں فی وجوههم من اثر السجود کے کے مطابق آثار مجود عبودیت ضرور پائے جانے چاہیئں اور انہی علامات ایمان میں آزمائش کرنا اور انہی میں مقابلہ ہونا چاہیئے (اس طرح ظاہر ہو جائے گا کہ وہ شخص کامل مومن ہے یا اسے مفتری ملحد وغیرہ قرار دینے والے) کامل مومن کی علامات یہ ہیں : اول۔اسے منجانب اللہ اکثر پیش از وقوع خوشخبریاں بتلائی جاتی ہیں۔دوم۔صرف اسی کی ذات یا اس سے تعلق رکھنے والوں کے بارے میں نہیں بلکہ جو کچھ دنیا میں قضاء وقدر نازل ہونے والی ہے یا دنیا کے بعض افراد مشہودہ پر کچھ تغیرات آنے والے ہیں ان سے اکثر اوقات خبر دی جاتی ہے۔سوم۔اکثر اس کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور استجابت دعا کے بارے اکثر اسے پیش از وقت اطلاع