اصحاب احمد (جلد 10) — Page 370
370 حصہ اپنی عمر کا اس راہ میں خرچ کرنا ضروری ہے تا کسی برہان یقینی کے مشاہدہ سے کمزوری اور ضعف اور کسل دور ہو اور یقین کامل پیدا ہو کر ذوق اور شوق اور ولولہ عشق پیدا ہو جائے۔۔جب تک یہ توفیق حاصل نہ ہو کبھی کبھی ضرور ملنا چاہیئے کیونکہ سلسلہ بیعت میں داخل ہو کر پھر ملاقات کی پرواہ نہ رکھنا ایسی بیعت سراسر بے برکت اور صرف ایک رسم کے طور پر ہوگی اور چونکہ ہریک کے لئے باعث ،ضعف فطرت یا کمی مقدرت یا بعد مسافت یہ میسر نہیں آسکتا کہ وہ صحبت میں آکر رہے یا چند دفعہ سال میں تکلیف اٹھا کر ملاقات کے لئے آوے لہذا قرین مصلحت معلوم ہوتا ہے کہ سال میں تین روز ایسے جلسہ کے لئے مقرر کئے جائیں جس میں تمام مخلصین اگر خدا تعالیٰ چاہے بشرط صحت و فرصت و عدم موانع قو یہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہوسکیں۔سو میرے خیال میں بہتر ہے کہ وہ تاریخ ۲۹ دسمبر تک قرار پائے۔۔ر حتی الوسع تمام دوستوں کو محض اللہ ربانی باتوں کے سننے کے لئے اور دعا میں شریک ہونے کے لئے اس تاریخ پر آ جانا چاہیئے۔اور اس جلسہ میں ایسے حقائق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے گا۔جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہیں۔اور نیز ان دوستوں کے لئے خاص دعا ئیں اور خاص توجہ ہوگی اور حتی الوسع بدرگاہ ارحم الراحمین کوشش کی جائے گی کہ خدا تعالے اپنی طرف ان کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے اور پاک تبدیلی ان میں بخشے جس قدر نئے بھائی اس جماعت میں داخل ہوں گے وہ اپنے پہلے بھائیوں سے روشناسی ہو کر آپس میں رشتہ تو دو تعارف ترقی پذیر ہوتا رہے گا۔اور جو بھائی اس عرصہ میں۔۔۔انتقال کر جائیگا اس جلسہ میں اس کے لئے دعا مغفرت کی جائے گی۔اور تمام بھائیوں کو روحانی طور پر ایک کرنے کے لئے اور ان کی۔اجنبیت اور نفاق کو درمیان سے اٹھا دینے کے لئے بدرگاہ حضرت عزت جل شانہ کوشش کی جائے گی۔۔۔۔اوراب جو ۲۷ دسمبر ۱۸۹ء کو دینی مشورہ کے لئے جلسہ کیا گیا۔اس جلسہ پر جس قد را حباب محض اللہ تکلیف سفر اٹھا کر حاضر ہوئے۔خدا ان کو جزائے خیر بخشے اور ان کے ہر یک قدم کا ثواب ان کو عطا فرما دے۔آمین ثم آمین۔،، (۳۳) یہ رسالہ ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۱ء کو مسجد کلاں میں اس جلسہ میں ایک جم غفیر کے روبرو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے پڑھ کر سنایا۔* اس رسالہ میں حضور فرماتے ہیں کہ میاں نذیر حسین دہلوی کو ) دوسرے مسلمانوں کے کافر بنانے کا اس قدر جوش ہے کہ جیسے راست با زلوگوں کو مسجد کلاں بعد میں مسجد اقصیٰ کے نام سے معروف ہوئی۔(مؤلف اصحاب احمد )