اصحاب احمد (جلد 10) — Page 369
369 ادارہ تصنیف میں کام کرتے تھے آمادہ کیا۔اس بارے میں منشی حبیب الرحمن صاحب نے بواسطہ شیخ عبدالرحمن صاحب بیان کیا کہ: - حضرت اقدس نے اپنے بعض خدام کو اس سلسلہ میں اپنے واقفوں سے کتب لانے کے لئے مقرر فرمایا تاکہ ان کے مسلمات سے ان کو ساکت کیا جاسکے۔اس کوشش میں صحیح بخاری نہ مل سکی۔میں حضور کی اجازت سے مدرسہ شاہ عبدالعزیز صاحب میں گیا۔ان سے میرے دیرینہ تعلقات تھے۔منشی ظفر احمد صاحب بھی میرے ہمراہ تھے۔وہاں ان لوگوں کی طرف سے خندہ پیشانی اور محبت سے ملاقات ہوئی اور عند الطلب صحیح بخاری فورا مل گئی ، جو ہم لے آئے۔بعد میں جب واپس کرنے گئے تو چونکہ دہلی کے علم دوست طبقہ نے یہ ایکا کیا ہوا تھا کہ وہ حضرت مرزا صاحب کے ساتھیوں کو کوئی کتاب نہ دیں اور ان کو یہ اندازہ ہو چکا تھا کہ ہم حضرت اقدس کے لئے کتب لے کر گئے تھے۔اس لئے مولوی صاحب نے ہمیں بے نقط گالیاں نکالنی شروع کر دیں لیکن ہم خاموش ہی واپس چلے آئے۔* اولیں جلسہ سالانہ (۱۸۹۱ء) میں شمولیت اولیں جلسہ سالانہ جو بمقام قادیان دسمبر ۱۸۹۱ء میں منعقد ہوا۔اس کی غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ ”آسمانی فیصلہ میں بوقت اشاعت اطلاع کے زیر عنوان بدمیں الفاظ بیان فرمائی ہے۔تمام مخلصین داخلین سلسہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہو کہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولی کریم اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل پر غالب آ جائے اور ایسی حالت انقطاع پیدا ہو جائے جس سے سفر آخرت مکر وہ معلوم نہ ہو۔لیکن اس غرض کے حصول کے لئے صحبت میں رہنا اور ایک دو یه مباحثه ۲۳ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو شروع ہوا تھا۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں اور ( حضرت ) پیر سراج الحق صاحب حضور کے ارشاد پر کتب لائے تھے۔صحیح بخاری ابھی تک نہ ملی تھی۔پھر (منشی) حبیب الرحمن صاحب مرحوم جو اس اثناء میں حاجی پور سے دہلی آگئے تھے۔اور میں مدرسہ شاہ عبدالعزیز صاحب میں گئے۔اور اس مدرسہ کے پاس میرے ماموں حافظ محمد صالح صاحب صدر قانونگو دہلی کا مکان تھا، وہاں جا کر ہم نے بخاری شریف کا آخری حصہ دیکھنے کے لئے مانگا انہوں نے دیدیا ، ہم لے آئے۔“۔(۳۲) جس کو کتب واپس کی جاتیں وہ ہماری کامیابی کی وجہ سے ہمیں گالیاں دیتا۔(۲)