اصحاب احمد (جلد 10) — Page 368
368 کبھی کچھ۔یہاں تک ( کہ ) مغرب کا وقت قریب آ گیا۔بدامنی ( کا) بہت اندیشہ تھا۔کثرت سے آدمی جمع تھے۔اور امینٹ کنکر ان کے پاس چھپائے ہوئے تھے اور موقع ( کا ) انتظار کر رہے تھے۔مگر پولیس نے ان کو موقع نہ دیا۔”جب شام قریب ہوئی تو سپر نٹنڈنٹ پولیس نے بایں الفاظ حضرت صاحب کی خدمت میں ادب سے عرض کیا کہ۔حضرت! یہ لوگ بحث نہیں کریں گے وقت گزار رہے ہیں شام ہوگئی ہے اب آپ تشریف لے چلیں۔حضور نے فرمایا (کہ) ہم کو اس سے بھی انکار نہیں۔مگر جب ہم چلیں گے تو یہ لوگ شور ڈال دیں گے کہ بحث سے بھاگ گئے۔سپر نٹنڈنٹ (پولیس نے ) کہا کہ میں ان کو اسی وقت دوسرے دروازہ سے نکالتا ہوں۔چنانچہ (انہیں) بھی اٹھایا ہم نے حضور کو درمیان میں کر لیا اور ہمارے گرد پولیس نے حلقہ بنایا اور آگے آگے سپر نٹنڈنٹ پولیس تھے۔دروازہ پر جا کر سپرنٹنڈنٹ بولے کہ مرزا صاحب کی گاڑی جلدی لا۔اس میں کچھ توقف ہوا تو سپرنٹنڈنٹ صاحب نے حضرت صاحب کو اپنی گاڑی میں بٹھایا۔جلدی سے گاڑی چلا دی اور فرودگاہ پر اتار کر اپنے مکان کو چلے گئے۔قلمی کا پی صفحہ ۵۷ تا ۶۰۱) * (۲) مباحثہ مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالوی سے۔مشہور و معروف اور ذی اثر علی جان والوں نے چاہا کہ وفات و حیات مسیح پر مباحثہ حضرت اقدس سے ہو کیونکہ جامع مسجد دہلی میں مباحثہ نہیں ہوا تھا۔چنانچہ انہوں نے اپنے ہم عقیدہ ایک اہل حدیث عالم مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی کو جو بھوپال میں نواب صدیق حسن خان صاحب کے بواسطه شیخ عبدالرحمن صاحب منشی حبیب الرحمن صاحب نے بتایا کہ جس راستہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی قیامگاہ پر جانا تھا۔اس بازار کی دکانوں اور چھتوں پر دشمنان احمدیت جھولیوں میں اینٹ پتھر بھرے منتظر بیٹھے تھے کہ کب حضور کی سواری گزرے اور وہ اینٹ پتھر کی بارش برسائیں لیکن وہ ناکام رہے۔اس لئے کہ لگ کے گھوڑے نے یکلخت اپنا رخ دوسرے راستہ کا اختیار کر لیا اور اس دور کے اور لمبے راستہ کو طے کر کے حضور اپنی قیام گاہ پر پہنچے اس طرح افسر موصوف حضور کو بفضلہ تعالے اپنی قیامگاہ پر بعافیت پہنچانے میں کامیاب ہو گیا۔ہم خدام بعد میں سواریوں پر قیام گاہ پر پہنچ گئے۔حضور جامع مسجد سے باہر دریسے والے گیٹ کی جانب سے تشریف لائے تھے۔تھے ،، (۳۱) مضمون منشی کظیم الرحمن صاحب میں جو حضرت منشی ظفر احمد صاحب کا تصدیق شدہ ہے۔یہ مرقوم ہے۔”دہلی کے مباحثہ میں بھی آپ (یعنی منشی حبیب الرحمن صاحب ) حضرت صاحب کے ساتھ