اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 17 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 17

17 دینے کے الٹا مجھ پر ناراض ہوتے اور کہتے کہ تم پادری عزیز الدین کے پاس نہ جایا کرو۔جس سے میرے دل میں اسلام کے متعلق شبہات پیدا ہونے لگے۔طبیعت میں تحقیقات کا مادہ تھا اور کوئی بات بلا سوچے سمجھے ماننے کو جی نہ چاہتا تھا۔اسی اثناء میں کسی نے مجھے حضرت مولانا غلام حسن خان صاحب کے متعلق بتایا کہ ان کے آگے یہ اعتراض پیش کریں وہ جواب دیں گے۔چنانچہ میں مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور اعتراضات پیش کئے۔مولانا صاحب نے ایسے جواب دیئے کہ تمام شبہات دور ہو گئے۔اب تو میں پادری صاحب کے سر پر سوار ہو گیا۔پادری صاحب مولانا صاحب کو جانتے تھے۔جب ان کو معلوم ہوا کہ میں مولانا صاحب کے پاس جاتا ہوں تو وہ مجھ سے مایوس ہو گئے۔پہلے ان کو یقین ہو گیا تھا کہ مجھے عیسائی بنالیں گے ان کے ساتھ دو ایک دفعہ میں گرجے بھی گیا اور ان کی نماز میں شامل ہوا۔مگر حضرت مولانا صاحب کی صحبت کے بعد وہ مجھ سے کترانے لگا۔اب میں اپنے اندر ایک طاقت محسوس کرنے لگا۔پہلے تو میں پادری صاحب سے مذہبی بات چیت کرنے سے ڈرتا تھا اوراب میں خودان سے ابتداء کرتا۔ایک دفعہ ان کے مکان پر ہی ہم دونوں نے سجدہ میں گر کر دعا کی کہ جو مذہب حق ہے اس پر ہم دونوں کو چلائے۔اور صراط مستقیم کی ہدایت کرے۔اسی عرصہ میں میں نے مولانا صاحب سے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنا شروع کر دیا۔میرے ساتھ میر مدثر شاہ صاحب اور دلاور خان صاحب بھی پڑھا کرتے تھے۔مولانا صاحب سے یہ درس کا سلسلہ میرے آٹھویں جماعت میں پڑھنے کے زمانہ سے انٹرنس کا امتحان دینے تک تقریباً دو سال یعنی جب تک میں پشاور رہا جاری رہا۔مولانا صاحب بھی مجھ سے بڑی محبت کرتے اور مہربانی سے پیش آتے۔اس تمام عرصہ میں کبھی مولانا صاحب نے مجھے یاد نہیں کہ میرے سامنے کسی اور شخص کو احمدیت کی تبلیغ کی ہو۔خود ہی کسی نہ کسی طرح مجھے علم ہو گیا کہ مولانا صاحب کسی شخص کے جو قادیان میں ہے اور اپنے آپ کو مہدی اور مسیح کہتا ہے ، مرید ہیں۔میں نے ایک دن مولانا صاحب سے مرزا صاحب کی کوئی کتاب مانگی۔آپ نے مجھے ازالہ اوہام“ دی ان دنوں میں انٹرنس کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔ازالہ اوہام میں نے چند دن میں ختم کر لی۔یہ پڑھ کر مجھے حضرت صاحب کی صداقت پر یقین ہو گیا۔یہ ۱۸۹۶ء کا آخر تھا۔اسی وقت میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا جس کا جواب مولا نا عبد الکریم صاحب کی قلم سے گیا کہ حضرت صاحب بیعت قبول فرماتے ہیں۔(الحمد للہ ) استغفار بہت پڑھا