اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 366 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 366

366 معذرت کر دی البتہ سید صاحب کے شاگردوں نے حضور کی اطلاع کے بغیر مباحثہ کے لئے ایک دن مقرر کر لیا اور عین وقت پر آنے کے لئے حضور کو کہلا بھیجا۔حضور پھر بھی جانا چاہتے تھے لیکن عوام کو حضور کے خلاف مشتعل کر دیا گیا۔جنہوں نے حضور کی قیامگاہ کا محاصرہ کر لیا اور بعض لوگ اندر گھس آئے۔اس صورتِ حال میں حضور تشریف نہ لے گئے۔اس پر ان لوگوں نے اپنی فتح کا شور برپا کر دیا پھر حضور نے ایک اشتہار دیا کہ حفاظت کا انتظام میں نے کر لیا ہے۔سید صاحب جہاں چاہیں حاضر ہو جاؤں گا۔ہر گز تخلف نہ کروں گا۔و لعنة الله على من تخلف۔حضور نے قسم دے کر سید صاحب سے کہا کہ وہ تحریری بحث کر لیں۔بحث نہ چاہیں تو ایک مجمع میں میرے دلائل سن کر تین دفعہ قسم کھا کر کہدیں کہ یہ دلائل صحیح نہیں ہیں۔اور حضرت مسیح ابن مریم اپنے جسم عصری کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے۔یہ مسیح ہے اور میرا یہی عقیدہ ہے۔پھر ایک سال کے اندر عبرتناک عذاب الہی سے وہ بچ جائیں تو میں کا ذب ہوں۔(۳۰) منشی صاحب لکھتے ہیں کہ اس کی تفصیل سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر میں شائع ہو چکی ہے۔اس لئے اس بارے میں چند واقعات لکھتا ہوں جامع مسجدہ دہلی کا مقام طے ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخری خط جو وقت مقررہ مباحثہ سے چند گھنٹہ قبل حضور نے میاں نذیر حسین صاحب کے پاس بھیجا، وہ منشی محمد خاں صاحب مرحوم اور منشی اروڑ ا صاحب مرحوم اور منشی ظفر احمد صاحب اور بندہ خاکسار لے کر میاں صاحب کے پاس گئے تھے۔جس وقت ہم میاں صاحب کے مکان پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ میاں صاحب مسجد میں ہیں، جو قریب ہی تھی۔ہم وہاں گئے تو میاں صاحب طلباء کو قرآن شریف پڑھا رہے تھے۔ہم نے وہ مراسلہ پیش کیا تو ( میاں صاحب) نے دریافت کیا کہ کیا ہے۔کہہ دیا گیا کہ حضرت مرزا صاحب کا مراسلہ ہے۔اس پر میاں صاحب نے کہا کہ ہمارے مکان پر لے جاؤ اور مولوی محمد حسین کو دیدو۔ہم نے عرض کیا کہ آپ کے نام ہے اس پر پھر کہا کہ میں جو کہتا ہوں کہ محمد حسین کو دیدو میں ابھی آتا ہوں۔ہم پھر مکان پر آئے تو مولوی محمد حسین بھی اس وقت آگئے اور پھر میاں صاحب بھی آ گئے اور ایک بالا خانہ پر ہم کو لے گئے۔میاں صاحب لاغر اندام ، لمبا قد، سفید لمبی داڑھی، بڑھے وغرارہ پہنا ہوا۔اور انگرکھا پہنا ہوا، سر پر ٹوپی، صدر میں میاں صاحب بیٹھ گئے۔اور ایک بغل میں مولوی محمد حسین اور ہم چاروں روبرو بیٹھ گئے اور پھر خط پیش کیا جو مولوی محمد حسین نے لے لیا اور کھول کر پڑھا میاں صاحب کے بڑھاپے نے ان کے کانوں پر خاصا اثر کیا ہوا تھا۔خط پڑھ کر مولوی محمد حسین نے بلند آواز سے میاں صاحب کو مخاطب کر کے کہا کہ