اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 16 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 16

16 ایک سال نوشہرہ کے گذر کا ٹھیکہ لیا تو وہاں بھی مجھے پاس رکھا اس طرح تقریباً چار سال میں نے تعلیم چھوڑی رکھی۔اب میری عمر تقریبا انیس سال کی تھی کہ مجھے پھر خیال پیدا ہوا کہ تعلیم حاصل کروں۔مزید تعلیم :۔میں ۱۸۹۵ء میں پھر اسلامیہ سکول پشاور میں ساتویں جماعت میں داخل ہوا چھ ماہ بعد مجھے آٹھویں جماعت میں ترقی دے دی گئی اور اسی سال میں نے مڈل کا امتحان دے دیا۔چنانچہ میں اپنے ضلع میں دوم رہا اور مجھے وظیفہ ملا اسی سال اسلامیہ سکول کی طرف سے مجھے تین انعام ملے۔ایک اپنے سکول میں سب سے اول نمبر پر پاس ہونے کا دوم دبینیات میں اول رہنے کا سوم میں نے سالانہ جلسہ کے موقع پر ایک عربی نظم سنائی تھی اس کا انعام ملا۔ان دنوں اسلامیہ سکول میں ماسٹرضیاءاللہ صاحب سیکنڈ ماسٹر تھے۔شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کے بہنوئی تھے اور بعد میں قادیان میں آگئے تھے۔یہ زمانہ طالب علمی میں مجھ پر بڑی مہربانی کرتے تھے۔اور بڑی محبت سے پڑھایا کرتے تھے۔چونکہ اسلامیہ سکول صرف مڈل تک تھا میں مڈل کا امتحان پاس کر کے گورنمنٹ ہائی سکول میں داخل ہو گیا۔عیسائیت کی بجائے احمدیت کی طرف رجحان اور بیعت :۔جن دنوں میں مڈل کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا ایک شخص پادری عزیز الدین نامی جو پٹھانوں سے عیسائی ہوا تھا پشاور میں تھا اور میاں محمد صاحب کتب فروش کی دکان پر آیا کرتا تھا۔اور میں بھی وہاں جایا کرتا تھا۔اس طرح پادری صاحب سے واقفیت ہوگئی اور میاں محمد صاحب نے بھی میری سفارش کی کہ اگر مجھے ضرورت ہو تو وہ انگریزی میں مجھے مدد دیا کرے۔چنا نچہ میں کبھی کبھی ان کے مکان پر جایا کرتا۔جب میں ان کے مکان پر جایا کرتا تو وہ ضرور ہی مذہبی بات چیت شروع کر دیتے اور اسلام پر اعتراض کرتے جس کا مجھے جواب نہ آتا۔ایک دفعہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نو بیویاں کرنے پر اعتراض کیا۔ایسا ہی حضرت مسیح کے زندہ آسمان پر جانے ، ان کے مردے زندہ کرنے وغیرہ کا اس نے ذکر کیا۔جب میں ان اعتراضات کو اپنے مولوی صاحبان کے آگے پیش کرتا تو وہ بجائے ان کا جواب شیخ ضیاء اللہ صاحب کے متعلق حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب مقادیانی سے میں نے یہ یادداشت لکھی تھی کہ وہ خلافت ثانیہ سے وابستہ رہے تھے۔