اصحاب احمد (جلد 10) — Page 347
347 جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقیم ( تھے ) بہت جلد جانے کا ارادہ کیا۔مجھے تاریخ یاد نہیں غالباً ۹۰ ء یا ۱۸۹۱ء تھا۔میں نے منشی ظفر احمد (صاحب) کو اپنے ہمراہ جانے کے واسطے تیار کیا۔منشی ظفر احمد صاحب رشتہ میں میرے بھائی بھی ہیں۔میرے ہمراہ روشن علی جو عربی پڑھا ہوا اور مسن آدمی تھا اور محبوب جو ایک غریب پر دیسی تھا۔اور ہماری مسجد میں رہتا تھا۔اور ہمارے ہاں کھانا کھاتا تھا، بیعت کرنے کی غرض سے تیار ہوئے اور لود یا نہ پہنچے۔حضرت صاحب محلہ اقبال گنج میں رہتے تھے۔آپ نے ایک مکان کرایہ پر لیا ہوا تھا اور ایک مردانہ جو بالکل ملے ہوئے تھے۔مردانہ مکان سے زنانہ مکان میں جانے کے واسطے بیرونی سڑک شارع عام پر سے کسی قدر چل کر جانا پڑتا تھا۔زنانہ مکان کی ڈیوڑھی تھی جس کا بڑا دروازہ تھا۔اس ڈیوڑھی میں قریباً بیس فٹ لمبا ایک کمرہ تھا۔اس کمرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام رہا کرتے تھے اور اس کمرہ کا ایک دروازہ زنانہ جس کا ایک دروازہ سڑک کی طرف کھلتا تھا جو سڑک سے اونچا تھا مکان کی طرف ایک چبوترہ پر کھلا ہوا تھا۔اس چبوترہ پر صف بچھا کر گرمیوں میں بیٹھا کرتے تھے اور ڈیوڑھی میں بھی دروازہ تھا۔اکثر جب اپنے کسی خاص خادم سے باتیں کرنی ہوتی تھیں تو زنانہ مکان کا دروازہ بند کر دیتے تھے۔اور ڈیوڑھی کا دروازہ کھول دیتے تھے۔اندر زنانہ مکان بہت وسیع تھا۔مردانہ مکان میں ایک کمرہ اسی قدر لمبا ( تھا) اور اس کا برآمدہ تھا۔چبوترہ اور محن۔اس کمرہ کا ایک دروازہ سڑک کی طرف مگر سڑک سے اونچا۔وہ دروازہ نشست برخاست کے وقت دن کو کھول دیا جاتا تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس دروازہ کے پاس بیٹھا کرتے تھے۔وہ دروازہ غرب کی جانب تھا۔اس طرح وہ ہی جگہ نماز کے وقت امام کی ہوتی تھی۔اور آپ خود نماز پڑھایا کرتے تھے۔” ہم چاروں دو پہر کو بارہ بجے کے بعد پہنچے تھے صحن میں چبوترہ سے نیچے دو پلنگ بچھے ہوئے تھے، ایک پلنگ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف فرما تھے۔اس طرح کہ قدم شریف زمین پر اور جوتا پہنے ہوئے تھے۔اور مہندی ریش مبارک کو لگائی ہوئی تھی حافظ حامد علی صاحب مرحوم اور حافظ نوراحمد صاحب بھی اس مکان میں موجود تھے ان کو میں نے کچھ دیر کے بعد شناخت کیا کہ یہ خواب والے آدمی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے دیکھ کر شناخت کر لیا۔وہی شکل و شباہت تھی جو خواب میں دیکھی تھی۔حضرت صاحب ہم سے مل کر بہت خوش ہوئے اور مجھے دیکھ کر فرمایا کہ آپ کا نام حبیب الرحمن ہے؟ پھر فرمایا کہ آپ کے خط آیا کرتے ہیں۔اس کے بعد میرے والد صاحب کی طبیعت کا حال دریافت فرمایا دیر تک خاکسار سے باتیں کرتے رہے۔میرے ساتھیوں کا نام بھی دریافت کیا اور کچھ بات بھی کی لیکن زیادہ تر مجھ سے ہی ہمکلام رہے پھر فرمایا کہ میں مہندی دھو آؤں اور زنانہ مکان میں تشریف لے گئے۔فارغ ہو کر جلد ہی تشریف لائے ظہر کی نماز کا وقت تھا اور خود ( نماز کی امامت