اصحاب احمد (جلد 10) — Page 346
346 حضور اود ہیا نہ میں تشریف لے آئے تھے بیعت کے لئے میں جانا چاہتا مگر والد (یعنی) حاجی محمد ولی اللہ صاحب کی علالت اور دوسرے کاموں سے فرصت نہ ہوتی تھی۔ایک دن خواب میں دیکھا کہ حضور پلنگ پر سرہانہ کی جانب بیٹھے ہیں۔صحن میں میں سامنے بیٹھا ہوں اس پلنگ پر اور آپ کی ٹانگیں دبارہا ہوں۔اس وقت میں نے دیکھا کہ آپ کی ٹانگیں مثل روئی کے نرم ہیں اور ہڈی نہیں ہے۔مجھے تعجب ہو رہا ہے۔میں نے عرض کیا کہ حضور! ازالہ اوہام ابھی نہیں چھپا ؟ فرمایا کہ چھپ گیا ہے۔کیا آپ کو ابھی نہیں ملا؟ میں نے عرض کیا ( کہ ) نہیں۔حضور نے حافظ حامد علی صاحب مرحوم کو اشارہ کیا اور فرمایا کہ ازالہ اوہام کی ایک جلد لا کر ان کو دیدو۔وہ کمرہ کی طرف گئے میں نے عرض کیا حضور! یہاں پینے کا پانی ہے؟ حضور نے حافظ نوراحمد (صاحب) لدھیانوی کو فرمایا کہ ان کو پانی پلاؤ۔حافظ نور احمد صاحب ایک پیتل کے کٹورہ میں پانی لائے۔وہ پانی میں نے پیا بہت سرد پانی تھا پھر آنکھ کھل گئی۔” حافظ حامد علی صاحب اور حافظ نور احمد (صاحب) سے میں واقف نہ تھا۔نہ حضور نے ان کا نام لیا تھا۔بلکہ بعد میں جب میں گیا تو ان کو دیکھ کر شناخت کیا کہ ان کو خواب میں دیکھا تھا۔نام بھی اسی وقت معلوم ہوئے۔۔اس کے بعد مجھے پھر ایک خواب آیا کہ لدھیانہ کے چوڑے بازار میں ایک شخص زور سے مجھے آواز دے رہا ہے کہ جلد آؤ توقف کیوں ہے؟ اس خواب سے کشش زیادہ (سے) زیادہ ہوئی اور میں نے لودیا نہ کروں گا کہ ان میں سے کوئی اندھا ہو جائے اور کوئی مفلوج اور کوئی دیوانہ اور کسی کی موت سانپ کے کاٹنے سے ہو اور کوئی بے وقت موت سے مرجائے اور کوئی بے عزت ہو اور کسی کو مال کا نقصان پہنچے۔پھر اگر چہ تمام مخالف مولوی مرد میدان بن کر مباہلہ کے لئے حاضر نہ ہوئے مگر پس پشت گالیاں دیتے رہے اور تکذیب کرتے رہے۔چنانچہ ان میں سے رشید احمد گنگوہی نے صرف لعنتہ اللہ علی الکاذبین نہیں کہا۔بلکہ اپنے ایک اشتہار میں مجھے شیطان کے نام سے پکارا ہے۔آخر نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ تمام بالمقابل مولویوں میں سے جو باون تھے آج تک صرف ہیں زندہ ہیں اور وہ بھی کسی بلا میں گرفتار، باقی سب فوت ہو گئے۔مولوی رشید احمد اندھا ہوا اور پھر سانپ کے کاٹنے سے مر گیا۔جیسا کہ مباہلہ کی دعا میں تھا۔، (۲۶) یہ ہے انجام تصدیق کرنے کے بعد پھر تکذیب ہی نہیں اس میں انتہا کرنے والے دوسرے متعدد افراد کی صورت ہلاکت کا بھی ذکر ہے - فَاعتَبِرُ وُ ايا أولى الأبصار!