اصحاب احمد (جلد 10) — Page 341
بعض احباب کپورتھلہ کی بیعت 341 اس تعلق میں منشی حبیب الرحمن صاحب تحریر کرتے ہیں : سرمه چشم آریہ طبع ہو گئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جناب والد صاحب کو اطلاع دی جو والد صاحب مرحوم نے منگالی۔سراج منیر کا اشتہار بھی ایک کارڈ پر آیا لیکن وہ اس زمانہ میں طبع نہیں ہوئی تھی۔اس کے بعد جناب والد صاحب فالج کے مرض سے بیمار ہو گئے تھے۔اس لئے یہ سلسلہ خط و کتابت بند ہو گیا۔جب سبز اشتہار آیا جس میں بیعت کا اعلان تھا اور پھر شرائط بیعت بھی آئے یہ بھی والد صاحب مرحوم نے مسجد میں سنادے تھے۔اس پر منشی اروڑ اصاحب مرحوم منشی محمد خان صاحب مرحوم اور منشی ظفر احمد صاحب اور منشی عبدالرحمن صاحب جو میرے دوست اور ہر وقت کے ہم نشین تھے۔بیعت کے لئے تیار ہو گئے۔کیونکہ پہلے خطوط اشتہارات اور براہین احمدیہ ( اور ) سرمہ چشم آر یہ دیکھ کر ان کی طبیعت اس طرف راغب ہو چکی تھی۔میں چونکہ سکول میں پڑھتا تھا۔اس لئے میں نہیں جاسکا۔یہ سب سے پہلی بیعت تھی جو لود بیانہ میں ہوئی۔غالباً چھ آدمی ( یعنی کپورتھلہ کے۔ناقل ) اس وقت داخل بیعت ہوئے۔منشی محمد خان صاحب مرحوم منشی اروڑا صاحب مرحوم منشی ظفر احمد صاحب منشی عبدالرحمن صاحب ہمنشی فیاض علی صاحب ( اور ) اجین فضل حسین۔ان سے ابتدائی پانچ دعوائی مسیح موعود پر مستقل رہے لیکن بقیہ حاشیہ: سگے پھوپھا تھے اور جالندھر میں صدر و اصل باقی نولیس تھے۔حاجی ولی اللہ صاحب بیمار تھے۔میں ان سے اجازت لے کر گیا تھا۔منشی ظفر احمد صاحب کے بیان (مندرجہ اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ ۷۸ ۷۹) سے منشی عبداللہ صاحب کے نام اور ان کے اس عہدہ اور اس قرابت ، حلوہ بیضہ کھانے کا اور سرسید احمد خان صاحب کے استفسار کا اور حضور کے مسجد میں نماز پڑھنے کا اور بعدۂ ٹرین سے روانگی کا علم ہوتا ہے اور یہ کہ یہ واقعہ سرمہ چشم آریہ کے طبع ہونے سے پہلے کا ہے اور یہ کہ میں جالندھر گیا ہوا تھا جبکہ مجھے حضور کی متوقع آمد کا علم ہوا۔اور ہم جالندھر ریلوے اسٹیشن پر گئے۔وہاں دو تین سو افراد حضور کی پیشوائی کے لئے موجود تھے۔حضور گاڑی سے اترنے لگے تو بہت ہجوم ہو گیا۔عورتیں اپنے بچے حضور کی طرف کرتی تھیں کہ حضور کے کپڑوں کی ہوا لگ جائے۔کنور بکر مان سنگھ نے اپنا ایک وزیر حضور کو اپنے ہاں لانے کے لئے بھجوایا تھا۔لیکن حضور کنور صاحب کی سواری میں منشی عبداللہ صاحب موصوف کے ہاں تشریف لے گئے اور اُن کی بیٹھک میں فروکش ہوئے حضور کی معیت میں حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری اور حضرت حافظ حامد علی صاحب تھے۔