اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 335 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 335

335 کے لئے دعا فرماتے رہیں۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حاجی صاحب کا باہم رابطہ قائم رہا۔چنانچہ منشی حبیب الرحمن صاحب تحریر کرتے ہیں کہ سرمہ چشم آریہ (ستمبر ۱۸۸۶ء میں طبع ہو گئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جناب والد صاحب کو اطلاع دی جو والد صاحب مرحوم نے منگالی۔سراج منیر کا اشتہار بھی ایک کارڈ پر آیا۔لیکن وہ اس زمانہ میں طبع نہیں ہوئی تھی۔اس کے بعد جناب والد صاحب فالج کے مرض سے بیمار ہو گئے تھے۔اس لئے یہ سلسلہ خط وکتابت بند ہو گیا۔جب سبز اشتہار (مورخہ یکم دسمبر ۱۸۸۸ء ) آیا جس میں بیعت کا اعلان اور پھر شرائط بیعت (مندرجہ تکمیل تبلیغ ، مورخہ ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء) آئے یہ بھی والد مرحوم نے مسجد میں سنادئے تھے۔“ (قلمی کاپی صفحه ۲۶-۲۷ ) منشی حبیب الرحمن صاحب کی بیعت ۲۵ / مارچ ۱۸۹۱ ء کی ہے۔بیعت کے موقع کے بارے آپ تحریر کرتے ہیں کہ ( حضرت اقدس نے ) * والد صاحب کی طبیعت کا حال دریافت فرمایا۔کوائف بالا سے ذیل کے دوامور ظاہر ہیں : (قلمی کا پی صفحه ۳۵) اول : حضرت اقدس سے حاجی صاحب کا رابطہ کچھ عرصہ منقطع رہا تھا۔چنانچہ حضرت اقدس کے جس مکتوب کی تاریخ جنوری ۱۸۸۷ء متعین کی گئی ہے۔اس میں طباعت "سرمه چشم آریہ" (شائع کردہ ستمبر اس عبارت میں نشان x والی عبارت واوین میں موقف ہذا نے بطور وضاحت زائد کی ہیں رسالہ سراج منیر کے اشتہار کے وقت کی تعیین کے لئے بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت اقدس ایک اشتہار میں تحریر فرماتے ہیں کہ رسالہ سراج منیر چھپنے والا ہے اور رسالہ محنہ حق چھپ کر تیار ہے۔(باقی اگلے صفحہ پر ) رسالہ سراج منیر جو بھی طبع نہیں ہو ا تھا۔اس کے خریداروں کے نام رسالہ شحنہ بھی میں ایک اعلان کر کے طلب کئے گئے ہیں۔(صفحہ ) محنۂ حق کے آخر پر حضرت اقدس کے ایک مکتوب کی تاریخ ۴ اپریل ۱۸۸۷ء معلوم ہوتی ہے جس کی نقل وہاں درج ہے۔گویا ۱۸۸۷ء میں سراج منیر کے متعلق اشتہار شائع ہوا تھا۔(حاجی صاحب اس وقت زندہ تھے۔ان کا انتقال ۱۸۹۱ء میں ہو ا تھا۔) خطوط واحدانی کے الفاظ خاکسار مؤلف کی طرف سے ہیں۔