اصحاب احمد (جلد 10) — Page 332
332 کی بار آور ہوئی۔’ حاجی صاحب کو میں مخالفین کے زمرہ میں نہیں سمجھتا۔ہاں عملاً وہ سلسلہ کبیعت میں بھی شریک نہ ہو سکے۔براہین ہی کے زمانہ میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کچھ سوالات کئے جن کے جواب میں حضرت نے آپ کو خط لکھا۔حاجی صاحب کے ذریعہ جماعت کپور تھلہ (اس لئے کہ براہین، کپورتھلہ میں ان کے ذریعہ پہنچی) کا قیام عمل میں آیا اور یہ جماعت اپنے اخلاص و وفا میں ایک ایسی جماعت گذری ہے۔جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ساتھ جنت میں رہنے کی بشارت دی۔رضی اللہ عنہم۔” حاجی صاحب کی تعمیر کردہ مسجد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ایک نشان ہے۔غیر احمدی اس مسجد کو لینا چاہتے تھے۔اور اس کا مقدمہ عرصہ تک چلتا رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت کو بشارت دی کہ اگر میں سچا ہوں تو یہ مسجد تم کو ملے گی۔آخر وہی ہوا۔یہاں تک کہ ایک حاکم عدالت جو احمدیوں کے خلاف اپنے دل میں فیصلہ کر چکا تھا۔قبل اس کے کہ فیصلہ سنائے ، اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آ کر فوت (بقیہ حاشیہ) نے بھی آپ کو صالح قرار دیا ہے۔آپ کو اعلیٰ استعداد کے فخر کا خلعت عطا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے اپنی عنایت سے روز افزوں کرے۔اس کتاب کی اشاعت میں توسیع ہونی چاہیئے۔آخر میں حاجی صاحب نے حضور کے ملاء اعلیٰ میں درجہ اعلیٰ ہونے اور حضور کی باطنی قوت کا اقرار کرتے ہوئے اپنی دنیا و آخرہ کی بہتری کے لئے دعا کی درخواست کی ہے۔ایسے عاجزانہ طلب عفو کے خط کے بعد حضرت اقدس جیسا رحیم و کریم وجود حاجی صاحب کے کسی سابق خط کے تلخ اور درشت اور نا ملائم الفاظ اور خط کی حرارت کو یادنہ دلاتا۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حاجی صاحب کا طلب عفو والا خط حضرت اقدس کے مکتوب کے بعد کا ہوگا۔اس کے اثبات میں ایک مزید شہادت موجود ہے اور وہ یہ کہ مکتوبات احمدیہ ( جلد ششم۔حصہ اول) میں اس مکتوب کی تاریخ ۲۲ / جنوری ۱۸۸۵ء چہارشنبہ درج ہوئی ہے۔جو بروئے جنتری پنجشنبہ ہونے کی وجہ سے حضرت عرفانی صاحب نے خطوط وحدانی میں ( پنجشنبہ ) مکتوبات احمد یہ میں گویا بطور تحمید رج کر دیا ہے۔یعنی یہ سہوان کو بھی کھٹکا ہے۔علاوہ ازیں ایک تفصیل کے سلسلہ میں حضرت عرفانی صاحب نے وہاں مکتوبات احمد یہ میں اس خط کی تاریخ دو بار ۲۲ جنوری اور ایک بار ۲۴ جنوری تحریر کی ہے۔(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر )