اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 327 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 327

327 اہل ہنود بھی تعریف اور توصیف سے یاد کرتے ہیں اور اعتقاد اپنا جتلاتے ہیں۔اس عاجز نے جب سے ہوش پائی ہے اسی خاندان کو اپنا پیشوا گر دانا ہے۔اگر چہ بزرگان عاجز کے بھی ایسا خیال کرتے رہے اور محبت پوری بجالاتے رہے ہیں۔ان کی تصنیفات اور تالیف جہاں تک ممکن ہوئی (خاکسار ) مطالعہ کرتا رہا ہے۔اور جو ان کے خاندان کا آدمی مل سکا ان سے صحبت کا فیض حاصل کرتا ہے۔اور اقوال پسندیدہ اور افعال حمیدہ کو ذہن نشین کر کے اس زمانہ کے اشخاص ، واعظ اور علماء کے اقوال (و) افعال کے قبول کرنے کے واسطے انہیں کو معیار مقرر کیا ہے۔چونکہ آپ کی کتاب جو مطالعہ کی گئی ہے، ( اس کو ) ان کے طریقہ اور خیالات دینی سے متفق پایا۔اس واسطے اس کو مانا اور تحسین و آفرین کی صدا دل سے بلند ہوئی ہے اور آپ کے اقوال کو معتبر تصور کرتا ہوں جو زبانی مولوی عبدالقادر خلف عبداللہ لود یا نوی نے مجھ سے بیان کیا کہ آپ کو مولوی سید احمد صاحب نے جود یو بند کے قریب رہتے ہیں، جوان صالح فرمایا۔ان کی درخواست پر توجہ نہیں فرمائی، اس سے بھی مجھ کو آپ کی تصدیق کی تقویت ملی ہے کہ وہ لوگ بھی صاحب ظاہر و باطن ہیں اور ان کا خاندان بھی ہندوستان میں لاثانی ہے۔ان پر انوار البہی کا اثر پایا جاتا ہے۔یہ بھی ظاہر کرنا کچھ نقص نہیں معلوم ہوتا کہ میں اپنے حال پر اور اہل دین کے خیالات پر جو بندہ کو معلوم ہوئے ہیں کہ جو عموماً حالات مخالفان زمانہ دیکھ سن کر ذکر کرتے ہیں تو اسی وقت ایسے سوالات دل میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کے جوابات بھی اس وقت پیدا ہو جاتے جس کو آپ نے بشرح اور مفصل طور پر اپنی کتاب میں درج فرما کر مشتہر فرمایا ہے۔اس سے یہ مراد حاصل ہوتی ہے کہ ملاء اعلیٰ میں توجہ اس طرف ہے اور جس کا انعکاس اس عالم فانی میں ہوتا ہے۔مگر جس قدر جس کی استعداد ہے اس پر اثر کرتا ہے۔آپ کی جیسی استعداد مخلوق فرمائی گئی، آپ پر اُسی قدر ظاہر ہوا۔آپ کو خلعت اس فخر کا پہنایا گیا۔اللہ تعالیٰ اپنی عنایت رحمانی سے روز افزوں شرف یاب فرما دے۔جوا شارات اور بشارات آپ پر نازل ہوئے ہیں اس کو اعلان فرما دے۔آمین ثم آمین یہ کتاب ایسی اس زمانہ میں ہے جس کی ہر جگہ رائج ہونے کی ضرورت ہے۔آپ کی تجویز پر سوائے احسنت کے اور کچھ زائد کرنا مناسب نہیں ہے مگر دست بستہ نیک نیتی سے عرض کرتا ہوں۔امید ہے کہ با وجود اس قدر بلند منزلت کے ناگوار نہ ہو گا۔اس وقت تعداد قیمت ادنی بھی (موجودہ) حالات ( میں ) مسلمانوں پر گراں ہے اور تابع رواج اور اشتہار کے ہورہی ہے۔اکثر غریب مسکین آدمیوں کو شوق دین کا ہوتا ہے ،متمول آدمیوں کو تو اپنے اشغال سے فرصت ہی نہیں ہوتی کہ توجہ دنیا سے دین کی طرف کریں۔اس واسطے کم استطاعت آدمی قیمت سن کر خاموش رہ جاتے ہیں کہ اپنی قدر و منزلت سے زیادہ سمجھتے ہیں۔جب آپ نے کل اوقات اور جائداد اس کارخیر میں مستغرق کر دی ہے۔اور آپ کا درجہ اعلیٰ ملاء اعلیٰ میں ہے اس وقت اس فیضان عام کو کیوں