اصحاب احمد (جلد 10) — Page 313
313 ریاست کے مہمان تھے۔اُن کی مصاحبت میں ایک مولوی صاحب تھے جن کا نام غالباً مولوی محمد تھا۔یہ دونوں جناب والد صاحب مرحوم کی ملاقات کے واسطے ہمارے مکان پر آئے۔اس وقت ان مولوی صاحب سے حضرت صاحب کے متعلق بھی تذکرہ ہوا۔میں بھی موجود تھا۔مولوی صاحب نے صاف الفاظ میں کہا کہ وہ کافر ہے۔اس نے قرآن شریف میں بھی تحریف کی ہے۔اس نے لکھا ہے کہ قرآن شریف (میں) یہ ہونا چاہیے جو مجھے الہام ہوا ہے۔إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قَرِيباً مِّنَ الْقَادِيَانِ (۸) اس قسم کا تذکرہ تھا لیکن میں نے دیکھا کہ حضرت والد صاحب کے منہ سے کوئی ایسا کلمہ نہیں نکلا جو حضرت صاحب کی ہتک کا باعث ہو۔لیکن وہ مولوی صاحب نہایت سخت الفاظ استعمال کرتے تھے۔اس واقعہ سے چند یوم کے بعد ایک شخص خلیفہ غلام محی الدین نے جناب والد صاحب مرحوم سے بیان کیا کہ میں نے براہین احمد یہ منگائی ہے۔والد صاحب مرحوم نے بتاکیدان سے فرمایا کہ براہین احمدیہ دیکھنے کے واسطے میرے پاس بھیج دو۔اور اس وقت (ہی) ان سے منگائی۔تیسری اور چوتھی جلد انہوں نے والد صاحب مرحوم کے پاس بھیج دی۔آپ نے اس کا مطالعہ کیا۔میں نے دیکھا کہ وہ ہر وقت آپ کے مطالعہ میں رہتی تھی۔یہاں تک کہ دونوں جلد میں ختم کر لیں۔اس کے بعد آپ نے دو خط تحریر فرمائے ایک خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام اردو میں دوسرا مولوی محمد صاحب کے نام فارسی زبان میں مولوی صاحب کو لکھا تھا کہ آپ۔۔۔نے جو حالات مرزا صاحب کے سنائے تھے ، اب جو میں نے براہین احمد یہ دیکھی تو وہ سب غلط ثابت ہوئے اور حضرت صاحب کا حق پر ہونا ظاہر فرمایا۔مولوی صاحب نے خط کا کچھ جواب نہ دیا۔‘ ( قلمی کا پی صفحه ۱۳ تا ۱۵) ☆ آپ مزید لکھتے ہیں کہ : جو خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام لکھا وہ بہت طویل تھا، ٹل سکیپ کے چار ورق پر۔اس کی خود ہی نقل کی۔اصل خط روانہ فرما دیا۔اور نقل مجھے دی کہ اس کو فارسی زبان میں ترجمہ کر کے دکھاؤ۔اور اصل کو اپنے پاس محہ محفوظ رکھو اور دوسرا جو مولوی صاحب کے نام فارسی میں تھا۔وہ اصل مجھے دیا کہ اس کا ترجمہ کر کے مجھے دکھاؤ۔اور خط کو ڈاک میں ڈالو ادو۔میں نے اس ارشاد کی تعمیل کی۔پہلے بھی ایسے ترجمے اکثر مجھ سے کرایا کرتے تھے۔کیونکہ میں سکول میں پڑھتا یہ ہی فائل خط و کتابت کا میرے لئے سلسلہ میں داخل ہونے کا متحرک ہوا ہے۔اس سے بڑھ کر یہ کہ کپورتھلہ میں احمدیت کی بنیا دہی جو حضرت مرحوم سے پڑی اور آپ کی تعمیر کردہ مسجد بالآ خرمسجد احمد یہ ہوئی اپنی حیات ہی میں مجھے مسجد کا متوتی مقرر کیا۔( قلمی کا پی صفحه ۱۴-۱۵) حضرت اقدس علیہ السلام کے نام حاجی صاحب کے خط مذکورہ بالا پر تاریخ ۲۲ جنوری ۱۸۸۵ء درج ہے۔یہ تھا۔چند صفحات بعد درج ہے اور اس بارے میں بعض امور بھی۔(بقیہ اگلے صفحہ پر )