اصحاب احمد (جلد 10) — Page 312
312 ☆۔دنیا کی عجیب حالت ہے کہ لوگ دکانیں بنا کر کوئی مجد دبن جاتا ہے۔کوئی مصلح بن جاتا ہے۔اس طرح لوگوں کو دھوکا دے کر اور فریب سے روپیہ کماتے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔میری عمر اس وقت قریبا تیرہ سال کی تھی۔میں نے یہ خط نہیں پڑھا لیکن بعد کی خط وکتابت دیکھنے سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس خط کے ایسے ہی الفاظ تھے۔اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو خط آیا وہ میں نے پڑھا ہے جو حضرت والد صاحب نے مجھے دیدیا تھا کہ میں اس فائل کو حفاظت سے اپنے پاس رکھوں۔اب وہ خط اخبار الحکم میں طبع ہو چکا ہے۔7 یہ خط حضرت صاحب نے ناراضگی کے ساتھ لکھا تھا۔اس میں نصیحتیں بھی تھیں کہ اپنے ایمان کو پختہ کرو اور ساتھ ہی ایک اور اشتہار بھیجا جس کے ایک طرف انگریزی اور دوسری طرف اردواشتہا ر تھا۔جوابتداء زمانہ میں بکثرت شائع فرمایا تھا۔اور نیز وہ اشتہار سُرمہ چشم آریہ کے پیچھے بھی شامل کیا ہوا تھا۔یہ اشتہار حضرت والد صاحب نے نماز جمعہ کے بعد نمازیوں کو سنایا لیکن ان کی گفتگو سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ مطمئن نہیں۔اس وقت منشی اروڑ ا صاحب مرحوم اور منشی محمد خان صاحب مرحوم اور منشی عبدالرحمن صاحب بھی موجود تھے۔بلکہ یہ خاص طور پر مخاطب تھے فرمایا کہ تم ہر ایک کے پیچھے بلا سوچے سمجھے لگ جاتے ہو۔ان کی طرف بھی چلے جاؤ۔اسکی وجہ یہ تھی کہ ان دنوں میں مولوی محمد علی بو پڑی کپورتھلہ زیادہ آیا کرتا تھا۔اور اپنی بناوٹی آواز سے لوگوں پر اثر زیادہ کرتا تھا۔اور اس طرح چندہ بھی (اسے ) زیادہ مل جاتا تھا۔منشی اروڑا صاحب مرحوم اس کے خاص پیروؤں میں (سے) تھے۔اور چندہ بھی وہ ہی جمع کر کے دیا کرتے تھے۔یہ مولوی وہابی یا اہل حدیث تھا۔چونکہ والد صاحب اس کے حالات اور عادات کو دیکھ کر اس کو نا پسند فرماتے تھے۔اس لئے جو کچھ اس اشتہار کے سُنانے کے بعد فرمایا، یہ اُسی کی طرف اشارہ تھا۔یہ اشتہار بھی حضرت مرحوم نے میرے سپرد فرمایا۔کپورتھلہ میں حضرت صاحب کے وجود کا سب سے پہلا اعلان یہ تھا۔قلمی کا پی صفحہ ۱ تا۱۲) براہین احمدیہ حاجی صاحب کو میسر آنا منشی صاحب مزید لکھتے ہیں : حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب کبھی کوئی اشتہار شائع فرماتے ، والد صاحب مرحوم کے پاس بھی روانہ فرماتے اور وہ پڑھ کر مجھے دے دیتے تھے۔ایک دفعہ ایک شہزادہ صاحب لودیانہ سے کپورتھلہ آئے جو ☆ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے مصدقہ مضمون میں تفصیل بالا کی مفہو ما تصدیق موجود ہے ( دیکھئے الحکم ۲۸ / جولائی ۱۹۳۵ء صفحہ ۷ کالم ۳)