اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 308 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 308

308 مراعات سمیت قریباً ایک ہزار روپیہ ماہوار بشمول پانصد روپیہ مشاہرہ کو چھوڑ کر وہ کیسے دوصد روپیہ مشاہرہ کو ترجیح دیں گے۔لیکن حاجی صاحب نے نواب صاحب بھوپال کو تحریر کر دیا کہ میں آپ کی پیشکش کو قبول کرنے سے معذور ہوں کیونکہ آپ کی طرف سے روبکار موصول ہونے سے پہلے میں مہاراجہ صاحب کپورتھلہ کی ملازمت قبول کرنے کا وعدہ کر چکا ہوں اور وہ مجھے چھوڑ نا پسند نہیں کرتے۔دوران ملازمت ریاست میں متعین انگریز ریذیڈنٹ اور بعض محکمہ جات کے افسران آپ کے مشوروں کو قبول کرتے تھے۔منشی صاحب یہ بھی تحریر کرتے ہیں کہ :- " (حاجی صاحب نے ) ریاست کا نبدو بست کیا بعد فراغت ریاست میں (ان کو) مجسٹریٹی کا عہدہ دیا گیا۔اور پھر (آپ) سیشن جج ( مقرر ) ہو گئے۔نیز آپ کو بعوض حسن خدمات سرکار کپورتھلہ سے کچھ اراضی عطا ہوئی جہاں آپ نے گاؤں آباد کیا اور اپنے نام پر حاجی پورہ نام دیہہ رکھا۔گاؤں میں۔مسلمان آباد کئے اور گاؤں میں ایک مسجد تعمیر کرائی جس کے متعلق پس و پیش کئی مکان ہیں۔“ (علاوہ ازیں آپ کی ) ذاتی ملکیت کی جدی اراضی بھی تھی۔منشی تنظیم الرحمن صاحب تحریر کرتے ہیں کہ حاجی صاحب وزارت کے منصب پر بھی فائز رہے۔آپ نے ریاست میں جو قوانین وضع کئے وہ اب تک ( یعنی مضمون ہذا کے ۱۹۳۵ء میں معرض تحریر میں آنے تک۔ناقل ) بلاتر میم محفوظ ہیں۔اس سے پہلے با قاعدہ قوانین نہ تھے۔آپ نے رعایا کو رعایات اور سہولتیں دیں اور یہ بات مشہور تھی کہ ایسا نیک اور عادل حاکم اس ریاست کو پھر کبھی میر نہیں آیا۔اس وجہ سے اہالیان ریاست آپ کے خاندان کے بچہ بچہ کو بہ نظر عزت و احترام دیکھتے تھے آپ صاحب فراست تھے باقی اہلکار تو کیا آپ کی وجاہت اور قابلیت کی وجہ سے مہاراجہ صاحب بھی آپ کی بہت قدر اور عزت کرتے تھے۔اور وزیر صاحب بھی آپ سے بہت خائف رہتے تھے۔آپ دیندار اور صاف گو تھے۔راستی کے پابند ہونے کی وجہ سے باوجود اصرار ہونے کے آپ نے ایک معاہدہ پر بطور گواہ اپنے دستخط ثبت نہ کئے کہ وہ راستی پر مبنی نہ تھا۔گو اس کے نتیجہ میں آپ کی اور آپ کے خاندان کی حق تلفی بھی ہوئی۔منشی حبیب الرحمن صاحب لکھتے ہیں کہ : " (حاجی صاحب) علم دین اور (علم) دنیا میں کمال رکھتی ھے۔اس واسطے ان کو مولوی بھی کہتے تھے۔انہوں نے تین حج کئے۔آپ کی دیانت، آپ کی قابلیت، آپ کا انصاف مشہور ہے اور ہر موقع پر آپ کا اسم مبارک ہر ایک زبان پر آتا ہے صوم وصلوٰۃ کے پابند تہجد گزار ، ورد و ظائف بھی کرتے تھے۔جو صرف استغفار