اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 303 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 303

303 اور اس کا آخری فعل اس دنیا اس اپنے پیارے کے حضور میں نماز پڑھنا تھا۔یہ خادم اس آخری وقت کے چھ سات گھنٹے برابر اس کے قدموں میں حاضر تھا اور اس نظارے کو دیکھ رہا تھا کہ کس طرح وہ دنیا و مافیہا سے لا پرواہ ہو کر اپنے محبوب حقیقی کی طرف چلا گیا۔۔” خدا صالح کی اولاد کو ضائع نہیں کرتا۔یہ پودا خدا کا لگایا ہوا ہے یہ پھلے گا اور پھولے گا اور بڑا درخت بنے گا۔ہاں غم ہے تو ان ذاتی تعلقات کے لحاظ سے ہے جو ہم کو اس پیارے کے ساتھ تھے۔اس نے اپنے حسن واحسان سے ہمارے دلوں کو نبھایا تھا اور تم تو اے اہل کپورتھلہ ان تعلقات کو بہت زیادہ محسوس کرنے والے ہو۔میں دیکھتا تھا کہ حضرت اقدس تم لوگوں پر کس قدر شفقت کرتے تھے۔وہ اپنے قدیم دوستوں کو خصوصیت سے یاد کرتے تھے۔تمہاری ملاقات کے وقت ان کا انداز گفتگو نرالا ہوتا تھا۔وہ تمہارے ساتھ بے تکلف تھے اور وہ تمہاری ناز برداری کرتے تھے۔سو میرے عزیز دوستو! تم اس درخت کی پرانی شاخیں ہو۔خدا تم کو سر سبز رکھے۔۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے اخلاص اور محبت میں ترقی دے اور آپ کو استقامت عطا فرما دے اور نیکوں کی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔آمین ثم آمین۔(۱۱) (و) حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے انتقال پر صحابہ کپور تھلہ کے بارے میں حضرت شیخ یعقوب علی ،، صاحب عرفانی تحریر فرماتے ہیں۔” میرے لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ ان عشاق میں سے کس کا کیا مقام تھا۔یہ اللہ تعالیٰ کو ہی علم ہے۔میں نے حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب، حضرت منشی محمد خان صاحب ، حضرت منشی اروڑے خان صاحب اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب کو نہایت گہری نظروں سے دیکھا۔ان بزرگوں کو بھی اپنے خادم بھائی سے محبت تھی۔اس کی کسی خوبی کی وجہ سے نہیں بلکہ محض اس لئے کہ وہ بزم احمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ایک پروانہ تھا۔میں نے ان میں سے جس کے حال پر غور کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ محبت و عشق اور آپ کی اطاعت وفدائیت کے پہلو میں بے نظیر پایا۔جماعت کے ہزار ہا صلحاء اور اولیا ء ایسے ہیں کہ ان کی خدمات اور تعبد اور زہد و عبادت یا خدمات کے لحاظ سے ان کا مقام بہت بلند ہے مگر ان ( احباب کپورتھلہ ) کا رنگ ہی اور تھا۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کو جماعت کپورتھلہ میں السابق الاوّل کا درجہ حاصل ہے۔بعض حالات اور واقعات سے حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب کا تقدم بھی پایا جاتا ہے۔مگر میری تحقیقات میں یہ مقام منشی ظفر احمد صاحب ہی کا تھا۔‘،(۱۲)