اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 267 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 267

267 تک کے حالات لکھنے کے بعد تحریر فرمایا:۔ان دنوں حضرت صاحب دن کا کھانا چھوٹی مسجد میں تمام مہمانوں کے ساتھ کھایا کرتے تھے۔جتنے اصحاب قادیان میں مقیم تھے سب حضرت صاحب کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے۔حضرت صاحب کی عادت تھی کہ ایک روٹی لے کر اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے اپنے آگے رکھتے جاتے۔ہم لوگ جو حضرت صاحب کے قریب بیٹھے ہوتے وہ ٹکڑے حضرت صاحب کے آگے سے اٹھا کر کھاتے۔اگر کوئی اچھی چیز حضرت صاحب کے آگے ہوتی تو جو آپ کے دائیں جانب بیٹھا ہوتا۔اٹھا کر حضور اسے دیدیتے پھر جو بائیں جانب ہوتا اسے دیتے۔جب تک میری شادی نہ ہوئی میں صبح کا کھانا حضرت صاحب کے ساتھ ہی کھاتا رہا اور مہمان خانہ میں رہا کرتا تھا۔۔جے ۶۵- از ماسٹر صاحب موصوف )۔جب تک حضرت مولانا عبدالکریم صاحب زندہ رہے۔مسجد مبارک میں نماز وہی پڑھاتے رہے اور مسجدا قصے میں جمعہ بھی وہی پڑھایا کرتے تھے۔موسم گرما میں کبھی ظہر یا عصر کی نماز کے بعد ان کو پیاس محسوس ہوتی تو مسجد مبارک میں بیٹھ جاتے۔اور کسی طالب علم کو کہتے کہ مسجد اقصے میں جا کر کسی مٹی کے کورے لوٹے میں تازہ پانی کنویں سے نکال کر لاؤ۔ان دنوں مسجد اقصیٰ میں وضو کے لئے لوٹے رکھے ہوتے تھے چنانچہ وہ پانی نکال کر لاتا۔تو آپ لوٹے کے گلے سے منہ لگا کر پانی پیتے۔یہاں اس روایت کی ماسٹر صاحب کی تحریر کا چہ بہ آپ کے طرز تحریر کے محفوظ کرنے کے لئے دیا جاتا ہے۔نمونہ طرز تحریر۔۔بیٹے ہوتے۔وہ مکتب حضرت نہ میری شادی نہ ہو گیا میں صحیح کا کی اتا رہا۔اور بہاتیانہ میں رہا کرتا تاکہ م کیسے دیا ہے۔پھر جو باقی حمایت ہو گا اُسے دیئے۔نفرت خواب داری کا کھانا چھوٹی میں میں تم مہمانوں کے ساتمہ نگارا کرتے رہے۔جس نے اصحاب قاریاں میں تقسیم ہے انے کا کیا کرتے تھے۔حضرت لانے کی عادت تھی۔کہ ایک روئی کو کر اُسے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے اپنے شراب کے آگے سے انہا کر لکھا ہے۔خیبر کوئی