اصحاب احمد (جلد 10) — Page 6
6 اسلامی اخوت کا نمونہ :۔آپ کا یہ واقعہ بھی بڑا دلچسپ ہے کہ ایک دفعہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود کے زمانہ میں لاہور میں نیلہ گنبد کے پاس آپ اور سید نا حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کا بقیہ صفحہ سابق :۔سے کیا۔اور ہم دو چھوٹی بہنوں کا رشتہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ نے تجویز کیا۔بھائی غیر صاحب کا جب رشتہ ہوا تو ان کو صرف دس روپیہ وظیفہ ملتا تھا۔بھائی محم عبد اللہ صاحب بھٹی ابھی زیر تعلیم تھے۔بھائی بیٹی خانصاحب مرحوم بھی میٹرک پاس کر کے گھر پر ہی تھے۔ان کے والد صاحب جائیداد تھے۔چھوٹی ہمشیرہ کا رشتہ میاں ابراہیم خانصاحب خلف میاں محمد خانصاحب کپورتھلوی سے ہوا جو آٹھویں تک تعلیم پائے ہوئے تھے لیکن بریکار تھے۔والدہ صاحبہ بہت باہمت خاتون تھیں آپ نے تنہا بچوں سمیت قادیان ہجرت کر لی۔آپ ہمیشہ حضرت مسیح موعود کے ہاں آمد ورفت رکھتی تھیں۔حضور " آپ کی بہت عزت کرتے اور سیدانی کہہ کر مخاطب ہوتے آپا عائشہ بھی آپ کے ہمراہ جایا کرتی تھیں۔حضور نے آپا کا نام برقع پوش رکھا تھا کیونکہ انہیں حضور کے سامنے جاتے شرم آتی اس لئے وہ برقعہ پہن کر بیٹھا کرتیں اور والدہ کے کہنے پر بھی نہ اُتارتیں۔حضور اکثر لکھنے میں مصروف ہوتے۔لکھنے کا طریق یہ تھا کہ آپ بیٹھ کر نہیں لکھتے تھے بلکہ ٹہلتے جاتے اور لکھتے جاتے اور بہت تیزی سے آپ کا قلم چلتا تھا۔گو والدہ صاحب لکھی پڑھی نہ تھیں مگر انہیں تعجب تھا کہ آپ کے لکھنے کا طریق عجیب ہے صحن کے دونوں طرف دیوار پر دوات رکھی ہوتی جب ایک طرف پہنچتے تو وہاں قلم ڈبو لیتے اور پھر جب ٹہلتے ہوئے دوسری طرف جاتے تو دوسری دوات سے قلم ڈبولیتے ٹھہر کر بات چیت بھی کرتے جاتے۔بعض اوقات والدہ صاحبہ آپ کو مصروف دیکھ کر جلد گھر واپس آنا چاہتیں تب آپ انہیں بیٹھنے کو کہتے۔اور فرماتے کہ کیا مجھے لکھنے میں مصروف دیکھ کر جانا چاہتی ہو۔آپ کے بیٹھنے سے میرے کام میں کوئی حرج نہیں۔البتہ آپ کو اگر کام ہے تو اور بات ہے۔والدہ صاحبہ پھر بیٹھ جاتیں آپ برابر لکھنے کا کام بھی انجام دیتے اور ضرورت کے مطابق باتیں بھی کرتے۔باتیں کرتے وقت ٹھہر جاتے پھر کام جاری کر لیتے۔والدہ صاحبہ کو بہت تعجب ہوتا کہ آخر مضمون کا تسلسل کس طرح جاری رہتا ہے۔والدہ صاحبہ اول تو روزانہ ورنہ دوسرے تیسرے دن ضرور حضور کی خدمت میں حاضر ہوتیں۔جب دیر سے جاتیں تو وجہ پوچھتے۔بچوں کا حال دریافت فرماتے۔یہ تمام باتیں میں نے والدہ صاحبہ کی زبانی سنی ہیں کیونکہ میں اس وقت ایک سال کی تھی۔حضرت والد صاحب کو حضور سے عشق تھا آپ حضور کی خدمت میں لکھتے کہ میری خواہش ہے کہ ملازمت ترک کر کے حضور کے قدموں میں ہمیشہ کے لئے آر ہوں مگر حضور یہی مشورہ دیتے کہ ملازمت ترک نہ کریں۔مگر والد صاحب نے اپنے عشق کی وجہ سے مہاراجہ سے ذکر کیا کہ میں ملازمت چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہوں بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر