اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 256 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 256

256 ٹھوکر کھا گئے۔ان میں میرے خیال میں دو شخص ایسے تھے کہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آپ سے بہت محبت تھی۔اور آپ بھی ان سے محبت فرماتے تھے۔ایک مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم اور دوسرے شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم۔مگر افسوس کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات پر انہیں ٹھوکر لگ گئی۔‘( 88) ۳۵ - ( از مولوی صاحب موصوف ) ” ایک دفعہ خاکسار نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ عبداللہ چکڑالوی مجھے کہتا تھا کہ آیت كُلَّ شَيْ هَالَكَ الْاوَجْهَهُ۔سے ثابت ہے کہ روحیں فنا ہو جاتی ہیں۔اور کہیں آتی جاتی نہیں۔اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا۔(مولوی صاحب! آپ کسی دہریہ کے پاس سے ہو کر آئے ہیں۔اس کے معنی تو یہ ہیں کہ ہر شے معرض ہلاکت اور فنا میں ہے۔سوائے خدا کی توجہ اور حفاظت کے یعنی كُلَّ شَـي مَالَكَ الاَبَوَجْهِهِ۔پھر فرمایا اگر روحوں کو بقا ہے تو وہ بھی خدا کی موہبت ہے۔اور اگر ان کے لئے کسی وقت ان پر فنا آجائے تو وہ بھی کوئی حرج نہیں۔‘ (90) ی ۳۶۔( از مولوی صاحب موصوف ) ” ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا کہ ہم اپنے گاؤں میں دو شخص احمدی ہیں۔کیا ہم جمعہ پڑھ لیا کریں۔حضور نے مولوی محمد احسن صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کیوں مولوی صاحب ؟ اس پر مولوی صاحب نے کہا جمعہ کے لئے جماعت شرط ہے۔اور حدیث شریف سے ثابت ہے کہ دو شخص بھی جماعت ہیں۔لہذا جائز ہے۔حضور علیہ السلام نے اس شخص سے فرمایا کہ فقہا نے کم از کم تین آدمی لکھے ہیں آپ جمعہ پڑھ لیا کریں۔اور تیسرا آدمی اپنے بیوی وبچوں میں سے شامل کر لیا کریں۔‘ (90) ۳۷۔( از مولوی صاحب موصوف)۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ کی اللہ تعالیٰ نے صدیقہ کے لفظ سے تعریف فرمائی ہے۔اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ حضرت عیسی کی الوہیت توڑنے کے لئے ماں کا ذکر کیا ہے۔اور صدیقہ کا لفظ اس جگہ اس طرح آیا ہے جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں۔بھر جائی کا نیئے سلام آکھناں واں۔“ جس سے مقصود کا نا ثابت کرنا ہوتا ہے نہ کہ سلام کہنا۔اسی طرح اس آیت میں اصل مقصود حضرت مسیح کی والدہ ثابت کرنا ہے جو منافی الوہیت ہے نہ کہ مریم کی صدیقیت کا اظہار۔مئولف سیرۃ المہدی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب دام عزہ ہ اس پر تحریر فرماتے ہیں کہ :۔پنجابی کا معروف محاورہ ”بھابی کا نیئے سلام ہے۔اس لئے شاید مولوی صاحب کو الفاظ کے متعلق کچھ سہو اس میں الحکم ۲/۳۵/ ۲۸ ( صفحہ ۳) سے خطوط وحدانی میں اضافہ کیا ہے۔