اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 5 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 5

5 ہی خدمت گزار شخصیت ہیں۔جلد ہی آپ کو محلہ دار الفضل قادیان میں ایک مکان تعمیر کرنے کی بھی توفیق ملی ہے قادیان گائیڈ میں اس کی طباعت ( ۲۵ دسمبر ۱۹۲۰ء) تک معلوم ہوتا ہے ابھی ڈاکٹر صاحب کا مکان تعمیر نہیں ہوا تھا۔کیونکہ اس میں مندرجہ فہرست میں آپ کا ذکر موجود نہیں۔بقیہ حاشیہ صفحہ سابق:۔نمونہ پر اظہار خوشنودی فرمایا۔(3) گھر میں بیعت کی اولیت کا شرف والد صاحب کو اور ہجرت کا والدہ صاحبہ کو تھا۔حضرت مسیح موعود کی بیعت کرنے پر تمام لوگ والدین کی مخالفت پر آمادہ ہو گئے حتی کہ والدین کے اعزہ و اقارب بھی۔گیارہ مولویوں کا فتویٰ ہمارے دروازہ پر لگا دیا گیا کہ یہ لوگ بے دین ہو گئے ہیں اس لئے ان کا مقاطعہ کیا جاتا ہے ان کے ہاں سے کسی فقیر کا خیرات لینا بھی اتنا بڑا گناہ ہے جیسا کہ اپنی ماں بہن سے برا کام کرنا۔غرضیکہ ستے بھنگی اور آٹا پینے والی نے کام ترک کر دیا اور دھوبی معذرت کر کے چلا گیا۔والد صاحب ان دنوں ریاست کپورتھلہ میں بطور منشی ملازم تھے۔حساب کتاب کا کام سپر د تھا۔والدہ صاحبہ بچوں کے ہمراہ تنہا تھیں۔سوسب سے زیادہ دقت پانی کی ہوئی اس لئے ہندو عور تیں آب رسانی کے لئے مقرر کی گئیں جن کو الو ہے اور تانبے کے گا گر خرید کر دیئے گئے کیونکہ مٹی کے گھڑے اول تو وہ چھوٹی نہ تھیں۔نیز ان کے ٹوٹ جانے کا خطرہ تھا مگر یہ انتظام بھی بیکار کر دیا گیا۔کیونکہ غیر احمدی مسلمانوں نے گائے کے گوشت کے ٹکڑے کنوئیں پر رکھنے شروع کر دیئے۔اس لئے والدہ صاحبہ کو خود اپنی بچیوں کے ہمراہ آدھی رات کو پانی بھرنا پڑتا۔اس وقت آپا عائشہ مرحومہ سے بارہ سال بڑی تھیں اور ان کی شادی حضرت مسیح موعود کے مشورے سے (حضرت) مولانا عبدالرحیم صاحب غیر کے ساتھ ہو چکی تھی۔دراصل ان کی شادی کے موقع پر عزیز واقارب بھی ناراض ہو گئے۔حالانکہ کھانے کا انتظام پرانے دستور کے مطابق کیا گیا تھا تا کہ عزیز شادی میں شریک ہو سکیں۔مگر جب انہوں نے بارات نہایت سادہ طرز کی دیکھی تو ایک دم بگڑ گئے کیونکہ بارات بھائی نیر صاحب اور حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب صرف دوافراد پر مشتمل تھی۔آپا عا ئشہ کے نکاح کا پورا اختیار حضرت مسیح موعود کو دیا گیا تھا۔حضور نے والد صاحب کو لکھا کہ کیا لڑ کا ذات کا سید ہو؟ والد صاحب نے لکھا کہ جبکہ آپ کی تعلیم یہ ہے کہ ایک سید ہوا اور دوسرا کنجڑا ( سبزی فروش ) تو میری بیعت کے بعد دونوں اس طرح رہنا جیسے ایک ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہو۔اس لئے میں چونکہ آپ کی بیعت میں آچکا ہوں اس لئے اگر آپ فرما ئیں کہ دوسرا احمدی بھائی بھنگی ہے اور اسے لڑکی دینے کوفر ما ئیں تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ہم سب بہنوں کے رشتے اسی طرح سے قرار پائے۔آپا عائشہ کا رشتہ حضرت مسیح موعود نے کیا۔باقی دو بڑی بہنوں کا رشتہ حضرت خلیفہ اول نے قاضی محمد عبد اللہ صاحب بھٹی اور بھائی محمد یحییٰ خانصاحب بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر