اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 243 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 243

243 جاتی ہے اور اسی نسبت سے ان کے واسطے دعائیں بھی زیادہ ہونی چاہئیں۔اور دراصل یہ بھی خدا کی شکر گذاری کا ایک پہلو ہے۔وَمَنْ لَمْ يُشْكُرُ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرُ اللهَ۔(74) سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۳۶ء کی مشاورت میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ مبلغین کیسے ہونے چاہئیں۔فرمایا:۔پرانے مبلغ مثلاً حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی۔مولوی غلام رسول صاحب را جیکی ،مولوی محمد ابرا ہیم صاحب بقا پوری۔انہوں نے ایسے وقتوں میں کام کیا ہے۔جبکہ انکی کوئی مدد نہ کی جاتی تھی۔اور اس کام کی وجہ سے ان کی کوئی آمد نہ تھی۔اس طرح انہوں نے قربانی کا عملی ثبوت پیش کر کے بتادیا کہ وہ دین کی خدمت بغیر کسی معاوضہ کے کر سکتے ہیں۔ایسے لوگوں کو اگر ان کی آخری عمر میں گزارے دیے جائیں۔تو اس سے انکی خدمات حقیر نہیں ہو جاتیں بلکہ گزارے کو ان کے مقابلے میں حقیر سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ جس قدر ان کی امداد کرنی چاہئے اتنی ہم نہیں کر رہے۔“ (75) جلسہ سالانہ۱۹۲۲ء میں حضور نے تبلیغی کوائف کے بیان میں فرمایا :۔و تبلیغ کو باقاعدہ کرنے کے لئے اس سال میں نے تبلیغ کے حلقے مقرر کئے تھے۔یعنی دو مبلغ اس کام کے لئے مقرر کئے گئے ایک مولوی غلام رسول صاحب را جیکی اور دوسرے مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری جن علاقوں میں یہ مبلغ مقرر کئے گئے ہیں ان میں بیداری پیدا ہوگئی ہے اور وہاں کے لوگ تبلیغ میں حصہ لینے لگ گئے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ کئی لوگ سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں اور ایک ایسی جماعت بھی پیدا ہوگئی ہے جو آئندہ سلسلہ میں داخل ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔” میں خدا تعالیٰ کی حمد اور شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایسے بے نفسی سے کام کرنے والے آدمی دیئے ہیں۔اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کے اخلاص میں اور ترقی دے اور ایسے ہی آدمی دے۔اس کے ساتھ ہی میں آپ لوگوں سے بھی چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے لئے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ان کو اور کام کرنے کی توفیق دے۔۔۔اس (مبلغ) کا یہ فرض نہ تھا کہ تبلیغ کرتا بلکہ ہمارا بھی یہ فرض تھا کہ ہم بھی تبلیغ کے لئے جاتے اس لئے احسان فراموشی ہوگی اگر ہم ان مبلغوں کی قدر نہ کریں اور ان کے لئے دعا نہ کریں کہ خدا تعالیٰ ان کی تبلیغ کے اعلیٰ ثمرات پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگ ہمیں کثرت سے دے اور اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کے مخلص اور بے نفس انسان اس مقصد کے لئے پیدا ہوں۔(76)