اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 238 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 238

238 حضرت اقدس سے حصول برکات :۔آپ نے ۳ مارچ ۱۹۰۵ء کو حضور سے سوالات کئے کہ اطمینان قلب کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔دعا جب تک دل سے نہ اٹھے کیا فائدہ ہوگا نمازیں پڑھنے کے باوجود ہم منہیات سے باز نہیں رہتے۔اور نہ اطمینان قلب میسر آتا ہے۔اور ہم عزم کرنے ولے ہوتے تو پھر حضور کی کیا ضرورت تھی۔ان سوالات کے جوابات حضور نے بسط و شرح سے بیان فرمائے کہ ذکر الہی سے اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے۔ایک کسان کی طرح جب انسان صبر دکھاتا ہے اور کوشش کرتا ہے تو اسے ذوق وشوق اور معرفت عطا ہوتی ہے۔معرفت کے حصول کے لئے مجاہدہ درکار ہے۔بے شک استقامت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملتی ہے جب فقیر کسی بخیل کے دروازہ پر دھر نا مار کر بیٹھ جاتا ہے تو کچھ نہ کچھ پاہی لیتا ہے۔تو رحیم و کریم ذات کے در پر گر کر کوئی خالی نہیں اُٹھ سکتا دل چاہے نہ چاہے کشاں کشاں مسجد میں چلے جاؤ سعی و مجاہدہ انسان کے ذمہ ہے پھر اللہ تعالیٰ استقامت عطا کرتا ہے۔جلد بازی جیسے دنیوی امور میں فائدہ نہیں دیتی۔دینی امور میں بھی مفید نہیں ہو سکتی۔نمازوں کو سمجھ کر پڑھنے اور کلام الہی اور ادعیہ ماثورہ کے علاوہ اپنی زبان میں دعائیں کرو۔تو اثرات مرتب ہوں گے دنیا کو اپنا معبود نہ بناؤ اور حضرت ابراہیم کی طرح صادق و وفا دار بننے کی کوشش کرو۔اور خدا کے ہو جاؤ۔اور اس کی ابتدائی منزل یہ ہے کہ جسم کو اسلام کے تابع کرو۔مولانا صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضور ظہر کی نماز کے بعد اندرون خانہ جانے لگے تھے کہ میں نے سوال کیا اور حضور میرے پاس آکر کھڑے ہو گئے اور حضور نے یہ باتیں ایسی محبت اور خوشی سے بیان کیں کہ سامعین محظوظ ہوئے۔اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے فرمایا کہ یہ شخص بہت خوش قسمت ہے کہ اس نے اپنی تمام بیماریاں ڈاکٹر کے سامنے رکھ دیں ہیں۔اب اس کا علاج ہو جائے گا۔حمید بقیہ حاشیہ :۔( صفحہیہ ) میں درج ہے آپ کے مضامین رفع مسیح، توفی بمعنی موت اور رفع کے حقیقی معنی کے متعلق ۱۹۱۷ ء میں رسالہ تفخیذ الا ذہان میں ماہ مارچ میں (صفہیم ۱ تا ۳۳) اور اپریل میں (صفحہ ۱۳ تا ۲۴) شائع ہوئے۔یہ کلمات طیبات الحکم مورخه ۱۰/۷/۰۵ میں درج ہیں اور وہاں لکھا ہے کہ ۳/۳/۰۵ کو قبل ظہر حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے مولوی محمد ابراہیم صاحب کو حضور کی خدمت میں پیش کیا۔اور مولوی صاحب نے حضور سے کچھ استفسارات کئے (صفحہ ۹ ) دوبارہ الرحمت مورخہ ۳/۴/۵۰ میں بھی شائع ہوئے۔