اصحاب احمد (جلد 10) — Page 224
224 قبول احمدیت سے مولوی صاحب کے تایا چراغ دین صاحب کی ( جو کہ ولی اللہ تھے ) یہ بات پوری ہوگئی جو کہ وہ مولوی صاحب کی والدہ کو کہا کرتے تھے۔کہ ابراہیم تمہارے گھر ایک نور لائے گا جسے تم وقت پر سمجھ لو گے حضرت مولوی صاحب اپنے خاندان میں احمدیت کے آدم تھے۔مخالفت بعد اعلان بیعت :۔آپ نے قصبہ مرالی میں پہنچ کر اپنی بیعت کا مسجد میں اعلان کر دیا اور یہ بھی بتادیا کہ جماعت احمدیہ کا کلمہ،قبلہ، اور دین اور نماز وہی ہے اور قادیان میں ہر وقت قال اللہ وقال الرسول کا ذکر ہوتا اور اشاعت دین کا کام ہوتا ہے۔اس پر قصبہ میں شور برپا ہوا۔اور شدید مخالفت کا آغاز ہو گیا۔اہلحدیث مولویوں کی طرف سے مقاطعہ کرا دیا گیا۔لوگ آپ کو کھلے بندوں گالی گلوچ دیتے۔ایسے کٹھن مرحلہ پر مولانا صاحب آستانہ (الہی ) پر جھکنے ،تہجد میں گریہ وزاری میں مصروف ہونے لگے۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر رویا وکشوف کا دروازہ کھول دیا۔اور یہ امر آپ کے لئے بالکل نیا تھا۔اس طرح آپ کے لئے تسلی کے سامان ہونے لگے۔ایک دفعہ حضرت عائشہ نے فرمایا بیٹا ! عزم رکھنا۔ایک دفعہ حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ میں نے بھی اسی طرح پختہ عزم کیا تھا۔سواب آپ کے ایمان و عرفان میں ترقی ہونے لگی اور حضرت مسیح موعود کے ساتھ عشق و وفا بھی بڑھنے لگا۔اور آپ دیوانہ وار تبلیغ میں لگ گئے جس پر آپ کے ماموں نے جو خسر بھی تھے آپ کو گھر سے نکل جانے پر مجبور کیا اور پولیس سے اس بارہ میں استمداد کی بھی دھمکی دی۔اس لئے آپ موضع بقا پور چلے آئے۔یہاں اپنی زمینداری کے باعث مقاطعہ تو نہ ہوا۔لیکن مخالفت پورے زور سے رہی۔عوام کے علاوہ آپ کے والدین اور چھوٹا بھائی بھی زمرہ مخالفین میں شامل تھے۔البتہ بڑے بھائی مخالف نہ ہوئے۔ایک روز آپ کی والدہ نے آپ کے والد سے کہا کہ آپ میرے بیٹے کو کیوں برا کہتے ہیں وہ پہلے سے زیادہ نمازی ہے۔والد صاحب نے کہا کہ مرزا صاحب کو جن کا دعویٰ مہدی ہونے کا ہے مان لیا ہے۔والدہ صاحبہ نے کہا کہ امام مہدی کے معنے ہدایت یافتہ لوگوں کے امام کے ہیں ان کے ماننے سے میرے بیٹے کو زیادہ ہدایت نصیب ہوگئی ہے جس کا ثبوت اس کے عمل سے ظاہر ہے اور مولوی صاحب کو اپنی بیعت کا خط لکھنے کو کہا۔آپ تبلیغ میں مصروف رہے اور ایک سال کے اندر والد صاحب چھوٹا بھائی اور دونوں بھاوجوں نے بھی بیعت کر لی۔اور بڑے بھائی صاحب نے خلافت اولی میں بیعت کر لی۔۱۹۰۵ء تا ۱۹۰۸ء تین سال بقا پور میں ہر طرح کی مالی اور بدنی ابتلاؤں کے گزرے کئی کئی دن فاقہ کشی