اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 216 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 216

216 خدمت سلسلہ اور لٹریچر میں ذکر :۔آپ کو سلسلہ کی مالی خدمات کی بھی توفیق ملی ہے چنانچہ آپ موصی ہیں سلسلہ کے لٹریچر میں بھی آپ کا ذکر آتا ہے۔چنانچہ الفضل میں قادیان میں آنے والے مہمانوں کے تعلق میں مرقوم ہے:۔الہ آباد سے خانساماں عبدالواحد صاحب جو بارادہ حج مکہ معظمہ جارہے ہیں (67) وہاں مرقوم ہے کہ ساٹھ مہمان آئے لیکن نام صرف سات کا دیا گیا ہے۔جس سے یہ مترشح ہوا کہ آج سے اڑتالیس سال قبل خلافت اولیٰ میں آپ کا شمار جماعت کے ممتاز اور قابل ذکر افراد میں تھا۔جیو دعاؤں کی قبولیت:۔جماعت احمدیہ پر حضرت مسیح موعود کے طفیل ہزاروں برکات نازل ہوئی ہیں۔ان میں سے ایک عظیم برکت دعاؤں کی قبولیت پر یقین اور دعاؤں میں انہاک بھی ہے۔حضرت مولوی عبد الواحد خان صاحب بھی بہت دعائیں کرنے والے بزرگ ہیں ذیل میں قبولیت دعا کے بعض واقعات درج کئے جاتے ہیں (۱) میرے بڑے لڑکے عزیزم ملک رشیدالدین انور سلمہ نے اس دفعہ میٹرک کا امتحان دیا۔بظاہر کامیابی کی امید نہیں تھی۔وہ پڑھائی نہیں کر سکا آپ کو دکھایا گیا کہ کامیاب ہوا ہے۔چنانچہ بفضلہ تعالیٰ غیر متوقع طور پر کامیاب ہو گیا۔(۲) وسط ہند میں چھاؤنی مہو میں آپ برطانوی فوج میں ٹھیکہ لے کر تین سال تک رہے وہاں ایک صاحب منصور علی کے لڑکے نے جو تعلیم یافتہ تھا سب انسپکٹر پولیس بھرتی ہونے کے لئے درخواست دی۔غیر مسلم کلرک کی شرارت سے وہ نا کام ہوا۔نصف سال بعد دوبارہ بھی مذہبی تعصب کے باعث اسے نا کام کیا گیا۔اہلیہ منصور علی نے اہلیہ مولوی صاحب کے ذریعہ مولوی صاحب کو کہلوایا کہ اس کے لئے دعا کریں۔ملازمت نہ ملنے کے باعث اسے رشتہ بھی نہیں مل سکتا۔آپ نے لڑکے کی والدہ کو کہلا بھیجا کہ اگر بیٹا پولیس کی ٹریننگ میں منظور کر کر لیا آپ کی وصیت کا نمبر ۵۲۶ مورخہ ۸/۱۱/۱۱ ہے۔آپ کا چندہ مدرسہ کے لئے بنارس سے تین روپے، پھر نصف رو پید اور کالج فنڈ ایک روپیہ مس کوٹ جھانسی سے اور برائے تعمیر مدرسہ ایک لاکھ کی تحریک میں بنارس چھاؤنی کوٹھی ٹکسالی سے تمہیں روپے اور پھر سترہ روپے اور بدر کے لئے سوار و پیہ مرقوم ہیں۔(دیکھئے علی الترتیب الحکم۳۱/۳/۵۰ صفحہ ۳۱/۸/۵۰،۱۲ صفحه ۲ اک۳،۲۔ریویو (اردو) بابت ۱۹۱۲ء ( صفحه ۲۳۰،صفحه ۴۴۵ ) و بدر ۶/۰۵/ ۸ صفحه ۸)