اصحاب احمد (جلد 10) — Page 197
197 تھوڑے دنوں کے بعد وہ دونوں واپس آئے۔اور کچھ عرصہ کے بعد بیعت کرنے کے لئے وطن سے قادیان آئے۔بیعت کر کے جب وہ واپس گئے تو انہوں نے مجھے بھی تبلیغ کی۔اور بتایا کہ وہ مسیح جس کی دنیا دیر سے منتظر تھی، قادیان میں نازل ہو چکا ہے۔جب حضور ۱۹۰۸ء کے آخری سفر میں لاہور تشریف لے گئے تو میں بھی لاہور پہنچا اور لاہور میں جہاں آپ ٹھہرے ہوئے تھے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی۔لاہور میں تین دن رہنے کے بعد میں واپس گھر چلا آیا۔حمید لاہور کے اس سفر میں حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ میں شاہدرہ جا کر مقبرہ جہانگیر دیکھنا چاہتا ہوں۔فرمایا کہ جانا ہے تو بے شک جاؤ مگر وہاں دعا نہ کرنا۔کیونکہ جہانگیر اپنے بعض مظالم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نیچے ہے۔یہ بات میں نے خود حضور کی زبان مبارک سے نہیں سنی تھی۔ہاں بعض دوستوں کی زبانی وہاں لاہور میں ہی اسی سفر میں سنی تھی۔“ ایک خواب:۔آپ نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ میں ایک ایسے ملک میں ہوں جو اس سے پہلے میں نے نہیں دیکھا تھا اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک اور شخص آ گیا۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ یہ کونسی جگہ ہے اور کونسا ملک ہے۔میں نے کہا کہ مجھے تو معلوم نہیں۔اس نے کہا کہ یہ مکہ مکرمہ کی سرزمین ہے۔یہ سن کر میں نے اسے بصد منت کہا کہ خدا کے لئے مجھے کعبہ شریف لے چلو۔وہ مجھے اپنے ہمراہ وہاں لے گیا۔اس کے اندر میں نے ایک محراب میں دیکھا کہ حضرت رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود ساتھ ساتھ تشریف فرما ہیں حضرت رسول کریم ﷺ نے بھی اور حضرت مسیح موعود نے بھی سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔اور دونوں چوکڑی مار کر بیٹھے ہوئے ہیں۔میں دیکھ کر اپنے دل میں خیال کرتا ہوں کہ مولوی لوگ جو کچھ کہا کرتے تھے وہ بالکل سچ نکلا۔وہ کہتے تھے کہ مسیح موعود رسول کریم ﷺ کے ساتھ دفن ہوں گے۔(الف) با با گلاب دین صاحب مدفون بہشتی مقبرہ قادیان بعد میں احمدی ہوئے۔جمال الدین صاحب و کرم الدین صاحب صحابی تھے۔دونوں ان کے بیٹے تھے۔یا ایک بیٹا تھا اور ایک بھتیجا۔بابا موصوف صحابی نہیں تھے۔بھڑ یا رہی کے حاجی رحیم بخش صاحب و مہتاب دین صاحب ( دونوں مدفون بہشتی مقبرہ) کے متعلق معلوم نہیں کہ صحابی تھے یا نہیں۔بیان میاں جلال الدین صاحب در ویش) (ب) فائل وصیت میں بیعت ۱۹۰۸ء مرقوم ہے۔