اصحاب احمد (جلد 10) — Page 196
ย 196 میاں کرم الہی صاحب (درویش) میاں نظام الدین صاحب (بڑے بھائی) میاں کرم الہی صاحب : محترم میاں کرم الہی صاحب ولد میاں عیدا قوم موچی سکنہ موضع بھنڈ یار ڈاکخانہ اٹاری ( ضلع امرت سر) کی تاریخ ولادت محفوظ نہیں۔آپ کا گزارہ موچی کے کام اور معمولی کاشت پر تھا۔آمدنی بالکل معمولی تھی آپ ان پڑھ تھے۔آپ کی اہلیہ مسماۃ جینز تھیں۔آپ صاحب اولاد تھے ہیں حالات قبولیت احمدیت : ** آپ نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود ملتان تشریف لے گئے۔ہمارے گاؤں موضع بھڑ یار ضلع امرت سر کے دو نوجوان لڑکے کرم دین مرحوم اور جلال الدین مرحوم پسران گلاب ترکھان ملتان میں کام کرتے تھے۔انہوں نے وہاں حضرت مسیح موعود کے لیکچر سنے اور بہت متاثر ہوئے۔(الف) یہ حالات موضع بھڈیار کے میاں جلال الدین صاحب ( درویش ) ولد میاں صدرالدین صاحب عرف ستر دین سے معلوم ہوئے ہیں جن کی اپنی عمران کی فائل وصیت کی رو سے اکسٹھ باسٹھ سال کی ہے وہ یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ میاں الہی صاحب ان کے بڑے بھائی میاں نظام الدین صاحب عرف جامو میرے والد میاں صدرالدین صاحب ولد عمر اور میرے دادا میاں عمر کے برادر زادگان بنام ماہی و شادی پسران میاں رجا نے اکٹھے ہی حضرت مسیح موعود کی دستی بیعت قادیان میں کی تھی۔ماسوا میاں کرم الہی صاحب کے باقی تمام مذکورہ بالا بیعت کنندگان تقسیم ملک سے پہلے وفات پاچکے ہیں۔( ب ) ۲۳/۱۲/۴۵ کو بوقت وصیت میاں کرم الہی صاحب کی عمر اسی سال تھی۔(ج) مسماۃ جینو ( جو غالبا زینت یا زینب کا محرف ہے۔مؤلف ) قریباً ہمیں سال پہلے وفات پاچکی ہیں اولاد کے اسماء یہ ہیں جلال الدین مرحوم۔امام الدین ( حال مقیم موضع شام کی ضلع شیخو پورہ ) شہاب الدین مرحوم حسین بی بی مرحومہ۔جو موضع تیجہ نز د فتح گڑھ چوڑیاں میں بیاہی ہوئی تھیں اور حلیمہ بی بی اہلیہ میاں رحیم بخش صاحب مقیم شاہدرہ نز دلاہور مرحوم کے سب اہل وعیال مرحوم کی وجہ سے احمدیت قبول کر چکے تھے ( بیان میاں جلال الدین صاحب موصوف ) قبول احمدیت کے یہ حالات آپ نے مئی ۱۹۴۸ء میں مسجد مبارک میں بطور ذکر حبیب کے سنائے تھے۔اور خاکسار مولف نے محفوظ کر لئے تھے۔اور جو خواب آگے درج ہے وہ آپ نے اسی موقع پر بیان کی تھی :۔