اصحاب احمد (جلد 10) — Page 193
193 روپیہ خرچ برداشت کیا تھا۔آپ نے وقف جائیداد کی تحریک میں اپنی جائیداد بھی وقف کی تھی۔تحریک جدید کے دفتر اول کے مالی جہاد میں آپ شامل ہیں۔(54) نوٹ :۔آپ کی روایات کتاب ہذا کے آخر میں درج ہیں۔بیعت دولت بی بی صاحبہ: مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میری ہمشیرہ محترمہ دولت بی بی صاحبہ نے میری بیعت سے تین ماہ قبل بیعت کر لی تھی۔ان کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔اور عمر بھی کافی ہوگئی تھی۔وہ حضرت مسیح موعود کی خدمت بابرکت میں حاضر ہو کر عرض کرتی رہتی تھیں کہ حضور دعا فرمائیں اللہ تعالیٰ مجھے ایک ہی بچہ دے دے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضور کی دعا کی برکت سے با وجو د شدید مایوسی کی حالت کے ایک بچہ عنایت کیا۔یعنی شیخ فضل احمد صاحب بز از حال مقیم لائل پور جو صاحب اولاد ہیں۔یہ حضرت مسیح موعود نے ان کو گود میں اٹھایا اور دعا بھی فرمائی۔موصوفہ نے ۱۹۰۹ء میں وفات پائی۔حضرت خلیفتہ المسیح اول نے از راہ کرم جنازہ پڑھایا اور موصوفہ کو قبرستان عید گاہ قادیان میں دفن کیا گیا ان کی وصیت نہیں تھی۔محتر مہ فضل بی بی صاحبہ سے شادی اور ان کی بیعت:۔مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب کی اہلیہ محترمہ فضل بی بی صاحبہ (جن کا آپ نے بعد شادی عائشہ نام رکھ دیا تھا) دختر شیخ نظام الدین صاحب سکنہ ڈھپئی نے اپنے خاوند کی بیعت کے آٹھ دن بعد محترمہ دولت بی بی صاحبہ کے ساتھ قادیان جا کر بیعت کر لی تھی۔ان دونوں کو حضرت ام المومنین کی معیت میں سیر کو جانے کا موقع ملتا رہا۔جبکہ وہ حضرت مسیح موعود کے ہمراہ مع بچگان تشریف لے جاتی تھیں۔آپ بہت نیک بخت خاتون تھیں۔انہوں نے مسجد لندن کے چندے میں اپنی سونے کی انگوٹھی دی تھی۔اور تحریک جدید کے مالی جہاد میں دفتر اول میں شریک تھیں۔( 55 ) ۱۲ مارچ ۱۹۶۱ء کو وفات پا کر بہشتی مقبرہ ربوہ قطعہ صحابہ میں دفن ہوئیں۔اس کا وسیت نمبر ۲۹/۱۰/۱۸/ ۱۵۷۵ ہے۔ربوہ میں شیخ فضل احمد صاحب تقسیم ملک سے پہلے قادیان میں بزاز کی دکان کرتے تھے۔بعد تقسیم ملک ہجرت کر کے لائکپور شہر میں مقیم ہیں اور یہی کاروبار ہے اور صاحب اولاد ہیں۔تحریک جدید کے وہ اور ان کی اہلیہ صاحبہ پانچیز اری مجاہدین دفتر اول میں سے ہیں (صفحہ ۲۸۸) ان کی اولاد چارلٹر کے اور چار لڑکیاں ہیں۔