اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 192 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 192

192 صاحب کے بیان کی تکمیل و تصیح بھی ہو جاتی ہے۔یہ حادثہ ۱۸ نومبر ۱۹۱۰ء کو وقوع میں آیا (53) مولوی محمد علی صاحب کے ساتھی جمع ہو گئے جو لوگوں میں ٹریکٹ تقسیم کرتے تھے۔مسجد میں سید محمد احسن صاحب امروہی کھڑے ہوئے اور آپ نے حضرت میاں محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کے متعلق کہا کہ حضور خلافت کے لائق ہیں۔اس وقت مجھے یکدم جوش آیا۔اور میں نے زور سے کہا کہ حضور اسی وقت بیعت ہونی چاہئے۔میرے منہ سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ حاضرین نے میری آواز میں آواز ملا دی۔اور ہر طرف سے یہی آواز آنے لگی اس وقت مولوی محمد علی صاحب اور مولوی صدرالدین صاحب نے کہا کہ ٹھہر وا ٹھہرو! ابھی بیعت میں جلدی نہ کرو۔میں نے جوش میں کہا کہ نہیں ٹھہریں گے۔اس پر سید احمد نور صاحب کا بلی کو بھی جوش آ گیا۔اور انہوں نے مولوی غلام رسول صاحب پٹھان کو کہا کہ انہیں باہر نکال دو۔یہ لوگ جن کی تعدا د سولہ تھی وہاں سے بھاگ گئے۔میں نے اپنی پگڑی اور سید احمد نور صاحب کی لنگی کو باندھ کر حضور کی طرف پھینکا۔حضور نے پگڑی کا سرا اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور بیعت لی۔خلافت ثانیہ کی ابتداء میں میں نے ایک خواب دیکھا کہ میرے ہاتھ میں حقیقۃ الوحی“ کتاب ہے حضرت مفتی محمد صادق صاحب گلی میں سے گزر رہے ہیں اور پوچھنے پر کہ کہاں جار ہے ہیں۔فرمایا کہ آپ نے نہیں سنا کہ یہاں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دربار لگا ہے۔میں بھی مفتی صاحب کے ساتھ روانہ ہوا اور وہاں پہنچ کردیکھتا ہوں کہ ایک پر جلال تخت ہے اور بوجہ کثرت انوار البہیہ نگاہیں چکا چوند ہورہی ہیں۔اور حضور قبلہ رو تشریف رکھتے ہیں اور میں نے مصافحہ کیا پھر دیکھا کہ حضرت مسیح موعود اسی تخت پر تشریف رکھتے ہیں۔تیسری دفعہ دیکھا کہ حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ تشریف فرما ہیں۔میں بہت حیران ہوا تو زور دار آواز آئی۔کیا تم دوسمجھتے تھے۔یہ ایک ہی ہے۔میرا خیال ہے کہ اس زور کی آواز تھی کہ ظاہر میں ایسی زور کی آواز پانچ چھ گھروں کے فاصلہ تک سنی جاتی۔( گویا شیخ صاحب مکرم کو حضرت مسیح موعود کے آنحضرت ﷺ کی محبت وعشق میں فنا ہونے اور حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود کے محبت و عشق میں فنا ہو کر مثیل ہونے کے متعلق رؤیا دکھائی گئی۔(مؤلف) خدمت سلسلہ:۔آپ نے منارہ مسیح کی تعمیر کے لئے پچاس روپے کا سینٹ اور چونا اور چالیس روپے نقد دیئے تھے۔ارتداد ملکانہ کے موقع پر اپنی طرف سے اپنے ایک عزیز کو وہاں تبلیغ کے لئے بھجوایا تھا۔اور ڈیڑھ صد