اصحاب احمد (جلد 10) — Page 127
127 بجے کے قریب لیے گرمی کا موسم تھا۔کوئی تین سوا تین بجے کروٹ بدلتے وقت میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ حضرت حاجی صاحب تہجد پڑھ رہے تھے پھر صبح کی نماز کے لئے سب سے پہلے جاگنے والوں میں سے تھے۔حملہ نفلی روزے کثرت سے رکھتے ہر سال اعتکاف ضرور کرتے سوائے اس کے کہ کسی دینی مصروفیت کے باعث موقع نہ ملا ہو۔صدقات اور چندوں میں اتنے با قاعدہ تھے کہ کبھی کسی کو آگے نہ بڑھنے دیتے تھے۔دینی واقفیت :۔مرحوم کی تعلیم مڈل تک تھی لیکن دین سے گہری واقفیت تھی آپ کوئی کسان لیکچرار نہ تھے لیکن جو فقرہ آپ کی زبان سے نکلتا وہ سیدھا دل میں اتر جاتا تھا۔ان کی تقریر میں ایسی تا ثیر تھی کہ اس کے بعد بڑے قادر الکلام لوگوں کی بات سننے کو جی نہیں چاہتا تھا۔اس تاثیر کار از اس بات میں مضمر تھا کہ آپ کے قول اور عمل میں کوئی فرق نہ تھا۔تبلیغ کا جنون: تبلیغ کا آپ کو جنون تھا۔مجھے ان کے خلوص دل کی یہ علامت بہت پسند تھی کہ آپ صرف دین کی تبلیغ ہی نہیں کرتے تھے ہر وہ مفید بات جو انہیں معلوم ہو اور جس سے مخلوق کا بھلا ہو۔اسے دوسروں کو بھی ضرور بتاتے تھے اگر کسی بیماری کی کوئی مفید دوا معلوم ہوتی تو فوراً دوسروں کو بتا دیتے۔مرحوم دبلے پتلے جسم کے تھے لیکن تبلیغ کے لئے پیدل میں ہیں پچھیں پھیس میں چلے جاتے۔اور کبھی تھکان محسوس نہ کرتے۔جالندھر اور ہوشیار پور کے اضلاع میں مبلغین کا دورہ خواہ کتنا ہی لمبی دیر کا ہو اور کتنے ہی لمبے فاصلہ کا ہو۔مرحوم ضرور ساتھ ہوتے علاقہ میں جہاں میلہ ہو وہاں احمدیوں کو ٹریکٹر دے کر بھجوادیتے اور بعض اوقات خود بھی تشریف لے جاتے۔میں بلاخوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ اگر کئی مبلغوں کی زندگی بھر کے کام کو جمع کیا جائے تو وہ کام مرحوم کے کام کے برابر نہیں ہوگا۔آپ کبھی کوئی موقع تبلیغ کا ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔اسٹیشن پر سے گذررہے ہیں۔اور گاڑی آگئی ہے تو آپ وہاں ٹریکٹ تقسیم فرما دیتے۔مرحوم اپنے علاقہ میں مبلغین سے اتنا کام لیتے تھے کہ بعض اوقات مبلغین تنگ آ جاتے۔ضلع جالندھر اور ضلع ہوشیار پور کی تمام جماعتوں کے قریباً تمام امور آپ کے ذریعہ طے پاتے۔جھگڑے چکانے کا نیز تربیتی اور تبلیغی کام اکثر آپ کے ذریعہ سے طے پاتا تھا۔فروتنی اور منکسر المزاجی۔مرحوم اس درجہ فروتن اور منکسر المزاج تھے کہ اس کی کوئی حد نہ تھی۔میں نے کئی سفران کے ساتھ کئے۔اگر سواری کا پورا انتظام نہیں ہوا تو جو سواری ملی وہ ساتھی کے لئے وقف کر دیتے۔ساتھی خواہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آپ اشراق اور ضحی کے نوافل بھی باقاعدگی سے ادا فرماتے تھے۔( مئولف)