اصحاب احمد (جلد 10) — Page 126
126 طالب بہت آگے نکلے ہوئے ہیں۔وصیت اور سلسلہ کے لٹریچر کا مطالعہ : حضرت حاجی صاحب ان سابقون الاولون میں سے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ حیات میں ۱۹۰۶ء میں وصیت کر کے اپنا حصہ جائیداد بحق صدر انجمن احمدیہ ہبہ کر دیا تھا۔ہے اور اسی وقت قبضہ دے دیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں - آپ سال میں کم از کم تین دفعہ ضرور قادیان حاضر ہوتے۔اور پندرہ پندرہ ہیں ہیں روز ٹھہرتے۔مرحوم کی تعلیم صرف مڈل تک تھی۔آپ نے حضرت مسیح موعود کی تمام اردو فارسی کتابیں پڑھی ہوئی تھیں۔اخبارات اور رسائل سلسلہ کے تاریخ بیعت سے لے کر آخر عمر تک باقاعدہ خریدار رہے۔ان کا با قاعدہ مطالعہ فرماتے رہتے تھے۔قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت فرماتے بلکہ ہر وقت اپنے پاس رکھتے تھے۔مہمان نوازی : فکر معاش سے آپ بالکل آزاد تھے پچاس برس کی عمر تک آپ کے ہاں کوئی اولا د ی تھی۔اس خانگی زندگی میں کوئی ایسی دلچسپی نہ تھی۔جس میں آپ کا وقت زیادہ صرف ہوتا۔آپ نے اپنا سارا وقت اور اپنی ساری آمدنی خدمت دین کے لئے وقف کر رکھی تھی۔شاید ہی کوئی دن ہوتا جب آپ کے ہاں مہمان نہ آتا۔عموماً بڑی تعداد احمدی مہمانوں کی آپ کے ہاں اتری رہتی۔اور جس کشادہ روئی اور روح کے انبساط کے ساتھ مرحوم ان کی مہمان نوازی فرماتے۔اس کا لطف وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں۔جو آپ کے مہمان رہے ہیں۔آپ کے بہت سے عزیز تھے۔اور ایسے لوگ بھی حاضر رہتے تھے جن کا فرض خدمت کرنا تھا۔لیکن مرحوم گھر میں ہوتے تو اکثر خود کھانا اٹھا کر لاتے۔اور باقی فرائض مہمان نوازی بھی اپنے ہاتھ سے سرانجام دینے کی کوشش فرماتے۔تہجد نفلی روزے۔صدقات اور چندے: مرحوم اتنی با قاعدگی سے تہجد کی نماز پڑھتے تھے کہ شاید ہی کبھی نماز قضا ہوئی ہو۔مجھے یاد ہے کہ موضع سلوہ میں جو قصبہ نواں شہر سے ایک میل کے فاصلہ پر ہے۔مرحوم تبلیغ کے لئے گئے۔اور اس عاجز کو بھی ساتھ لے گئے رات کے دو بجے تک گفتگو ہوتی رہی۔ہم بستروں پر کوئی اڑھائی سن وصیت و ہبہ کی تعین وتفصیل گذشتہ اوراق میں درج ہو چکی ہے۔حاجی صاحب کا الفضل کا خریداری نمبر آٹھ ہے اور اب تک آپ کے نام پر آتا ہے تمام رسائل و اخبارات سلسلہ کے آپ با قاعدہ فائل رکھتے تھے۔اور کتب حضرت مسیح موعود" وسلسلہ آپ کے پاس تھیں جن کا مطالعہ کرتے اور احباب جماعت و غیر از جماعت کو استفادہ کے لئے دیتے تھے۔(بیان اخویم چوہدری احمد دین صاحب)