اصحاب احمد (جلد 10) — Page 125
125 اس عاجز نے ۱۹۲۹ء میں حضرت حاجی صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوصلہ دلانے پر نواں شہر ضلع جالندھر میں پریکٹس شروع کی۔میں سچ کہتا ہوں مرحوم نے مجھے اپنے سایہ عاطفت میں لے لیا۔اور احسانات کی بارش شروع کر دی۔میری ہر ضرورت کا انہیں فکر ہو گیا۔میں مسلسل آٹھ سال تک ان کے ماتحت بطور سیکرٹری امور عامہ کام کرتا رہا ہوں۔اس طرح مجھے ان کی کتاب زندگی کے گہرے مطالعہ کا موقع ملا۔اور میں وثوق اور یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ تھوڑے ہیں۔مرحوم موضع کریام کے ایک معزز راجپوت خاندان کے فرد تھے۔نواں شہر کے علاقہ میں جہاں اراضیات نہایت گراں قیمت ہیں آپ تین مربع اراضی کے مالک تھے اسی طرح گزارے کے لحاظ سے ہر فکر سے آزاد تھے مرحوم نے کئی دفعہ مجھے سنایا کہ بچپن ہی سے آپ صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے علاقہ کے تمام واعظ اور مولوی جب ان کے گاؤں میں آتے تو انہی کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے۔طبیعت میں حیا بہت زیادہ تھی۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں توفیق دی کہ اپنی جوانی ہر قسم کے عیب سے پاک گزاریں۔بیعت : ۱۹۰۲ء میں آپ نے کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مطالعہ شروع فرمایا۔پھر ۱۹۰۳ء میں آپ ایک عزیز رشتہ دار چوہدری بشارت علی خانصاحب کو ساتھ لے کر قادیان حاضر ہوئے اور ہر دو نے حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔حضور علیہ السلام نے بوقت بیعت شرک سے بچنے کی نصیحت فرمائی اور یہ بھی فرمایا کہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔پھر فرمایا فکر نہ کریں اللہ تعالیٰ بہت جلد جماعت پیدا کر دے گا۔حضرت حاجی صاحب فرماتے تھے کہ ان کی بیعت کے چھ ماہ کے اندراندر موضع کریام میں جماعت احمدیہ قائم ہوگئی۔جواب قریبا تین صد زن و مرد اور بچگان پر مشتمل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی لئے فرمایا ہے کہ مجھے لاکھوں نشان دیئے گئے ہیں۔بیعت کے بعد ایک دفعہ کسی غیر احمدی نے آپ سے پوچھا کہ بیعت کر کے آپ نے کیا حاصل کیا۔فرماتے تھے کہ میں نے اسے کہا کہ بیعت سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ میں نیک ہوں میرے پاس ہر فرقے کے مولوی اور واعظ آکر ٹھہرتے اور ان کی اندرونی حالت مجھ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی۔میں محسوس کرتا تھا کہ میں ان سے بہتر ہوں۔بیعت کر کے میں نے یہ حاصل کیا کہ میں نے اچھی طرح محسوس کر لیا کہ میں گنہ گار ہوں۔اور اللہ تعالیٰ کے الفضل میں سہو ۱۹۹۲ طبع ہوا ہے۔